سٹی42: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی صوبائی انسپکشن کمیٹی نے دریائے سوات میں بارہ انسانوں کے ڈوب کر مر جانے کے الم ناک سانحہ کا صوبائی حکومت کے کئی اداروں کو بیک وقت ذمہ دار قرار دے دیا لیکن وزیراعلیٰ کا ہیلی کاپٹر مظلوم سیاحوں کو بچانے کے لئے نہ بھیجنے کا کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

صوبائی انسپکشن کمیٹی نے دریائے سوات میں سیلاب کے باعث 13 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کی 63 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ نے "کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کارروائی" کی منظوری بھی دے دی ہے۔

حفیظ سنٹر لاہور میں فائر ریسکیو آپریشن ؛ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کا فائر فائٹرز کو خراج تحسین

رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس، ریونیو، ایریگیشن، ریسکیو، ٹورازم پولیس اور دیگر محکموں کے درمیان کوآرڈی نیشن کا فقدان رہا جس پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ  متعلقہ محکمے 60 دنوں کے اندر تمام قانونی لوازمات پوری کرکے تادیبی کارروائیاں کریں۔

اس رپورٹ میں کسی بھی ادارہ کے افراد کی نشان دہی نہین جن کو براہ راست اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہو، نہ ہی یہ تعین کیا گیا کہ محکمے ذمہ داروں کو کیا سزائیں دیں گے۔

شکر گڑھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، زمینی رابطہ منقطع

دریائے سوات میں پانی کا بہاؤ بڑھ جانے کے وقت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ سیاح دریا کے ابدر ایک نسبتاً اونچی جگہ پر پھنس گئے تھے اور ایک گھنتے سے زیادہ وقت تک مدد کے لئے چیختے چلاتے رہے تھے، اس دوران دریا میں پانی اتنا بڑھا کہ وہ ٹیلا بھی زیر آب آ گیا جہاں یہ سیاح کھڑے مدد کا انتظار کر رہے تھے،  پانی بڑھنے سے وہ سب ایک ایک کر کے بہہ گئے اور ان مین سے  12 ڈوب کر مر گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر اور ملک بھر میں شہریوں نے اس سانھہ پر سخت احتجاج کیا تھا اور خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا، وزیر اعلیٰ نے عوامی دباؤ پر ایک انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے آج کچھ اداروں کو اس سانھہ کا ذمہ دار قرار دے دیا اور ان ہی اداروں سے کہاکہ وہ اپنے اپنے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف "تادیبی کارروائی" کریں۔

جیل روڈ سے ملحقہ سڑک پر شگاف پڑ گیا ،اتنظامیہ غائب

رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ متعلقہ محکمے اور ادارے 30 دنوں میں ان کوتاہیوں کو دور کریں جن کی وجہ سے یہ سانحہ ہوا۔ 

چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، کمیٹی متعلق ماہانہ رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔  کمیٹی ریور سیفٹی ماڈیولز کو اگلے مون سون ایمرجنسی پلان بنانے، ریسکیو 1122 کی استعداد کو بڑھانے کیلئے منصوبہ پر کام کرے گی۔

رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ دریاؤں کے اطراف سیاحتی مقامات میں درپیش خطرات کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی۔

اوپن اے آئی کا گوگل سرچ کے مقابلے پر براؤزر لانچ کرنے کا اعلان

اس رپورٹ میں آبی گزر گاہوں پر تعمیرات کو روکنے کا کہا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ  صوبے میں دریاؤں کے کنارے تجاوزات کے خلاف آپریشن میں 127 غیر قانونی عمارتوں کو سیل کیا گیا اور682 کنال رقبے پر بنے تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔

رپورٹ میں مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کیلئے 36 ریسکیو سٹیشنز کے قیام، ریسکیو کیلئے جدید آلات خریدنے اور 70 کمپیکٹ ریسکیو سٹیشنز کے قیام کی سفارش کی گئی ہے،  ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔

اداکارہ حمیرا اصغر کی میت لینے اہل خانہ کراچی پہنچ گئے، قانونی کارروائی جاری

یاد رہے کہ 26 جون کو دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں طغیانی کے باعث 17 افراد بہہ گئےتھے جن میں سے 4کوبچالیا گیا تھا جبکہ 12کی لاشیں مل چکی ہیں اور ایک کی لاش تاحال نہ مل سکی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: دریائے سوات میں کا ذمہ دار وزیر اعلی رپورٹ میں کیا گیا

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے