حارث کے بعد روحیل! رضوان کی مشکلات میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
بنگلادیش کیخلاف ہوم سیریز سے ڈراپ ہونیوالے محمد رضوان کو ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں بھی نظر انداز کیے جانے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کیخلاف ہوم سیریز میں محمد حارث کی غیر معمولی کارکردگی کے محمد رضوان کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے، سلیکشن کمیٹی اب روحیل نذیر کو ویسٹ انڈیز اور دورہ بنگلادیش میں موقع دینا چاہتی ہے۔
بابراعظم اور محمد رضوان کو جنوبی افریقا کیخلاف سیریز میں ایکشن میں دیکھا جاسکتا ہے، یہ سیریز اگلے 6 ماہ بعد شیڈول ہے۔
مزید پڑھیں: بابراعظم، رضوان اور شاہین کے ڈراپ ہونے پر بھارتی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلانے لگا
ٹی20 فارمیٹ میں دونوں کی واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دے رہی ہے، سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے سرفراز احمد اور سکندر بخت کے بارے میں ابھی پی سی بی نے باضابطہ کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا اور نہ ہی ان کی ذمے داریوں کا تعین کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بابر، رضوان، شاہین کا مستقبل کیا؟ سابق کرکٹر نے بتادیا
پی سی بی کی ویب سائٹ کے مطابق اسد شفیق، اظہر علی اور حسن چیمہ تاحال سلیکشن کمیٹی کے رکن ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد اور سکندر بخت کو سلیکٹرز کی کارکردگی کو دیکھنے اور بعض نظر انداز کھلاڑیوں کے بارے میں سلیکٹرز کی توجہ دلانے کا ٹاسک دیا گیا ہے، دونوں نے اسلام آباد اور لاہور کی ان میٹنگز میں شرکت بھی کی۔
مزید پڑھیں: رضوان، شان کا بطور کپتان مستقبل خطرے میں!
ادھر نسیم شاہ اور عامر جمال ان فٹ ہیں اور انہیں مکمل فٹ ہونے میں کچھ وقت درکار ہے، البتہ پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے نوجوان فاسٹ بولر علی رضا کو پاکستان کرکٹ ٹیم میں چانس ملنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ انہیں آنکھوں کی کوئی بیماری ہے جس کے علاج کیلئے آئی اسپیشلسٹ سے وقت لیا جارہا ہے۔
نوجوان فاسٹ بولر کو فلڈ لائٹس میں گیند کو دیکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔
پی سی بی کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد اور سکندر بخت کی تقرری کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔