قومی ٹیم کے سابق کپتان بابراعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی کے ڈراپ ہونے پر بھارتی میڈیا کو جھوٹی خبریں پھیلانے لگا۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانیوالی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی سلیکشن کمیٹی نے سابق کپتان بابراعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی کو دورہ بنگلادیش کے بعد ویسٹ انڈیز کیخلاف آئندہ سیریز سے بھی باہر کرنے کا پلان بنالیا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چیمپئینز ٹرافی میں بدترین کارکردگی اور بنگلادیش کیخلاف سیریز میں ڈراپ کیے جانے کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز کیلئے سلیکشن کمیٹی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان آغا کی مشاورت سے سینئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بابر، رضوان، شاہین کا مستقبل کیا؟ سابق کرکٹر نے بتادیا

بھارتی میڈیا نے اپنی حالیہ جھوٹی خبریں پھیلانے کیلئے ٹیلی کام ایشیا نیٹ کا حوالہ دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی بابر اور رضوان سے آگے بڑھنا چاہتی ہے، دونوں کرکٹرز پر ٹیم میں واپسی کیلئے دروازے بند نہیں ہوئے لیکن اسٹرائیک ریٹ اور فارم قومی ٹیم کی شکستوں کی بڑی وجہ ہیں۔

مزید پڑھیں: رضوان، شان کا بطور کپتان مستقبل خطرے میں!

قبل ازیں قومی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈکوچ مائیک ہیسن نے تربیتی کیمپ کے بابراعظم، محمد رضوان اور شاہین سے ملاقاتیں کیں تھی۔

مزید پڑھیں: پاک ویسٹ انڈیز 3 ون ڈے میچز کو ٹی20 میں تبدیل کرنے کی تجویز

دوسری جانب بنگلادیش کیخلاف سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کی پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے انہیں دورہ ویسٹ انڈیز میں بھی موقع دینے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے، جس پر بھارتی میڈیا سینئر کھلاڑیوں کو بھڑکا کر ڈریسنگ روم کا ماحول خراب کرنا چاہتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رضوان اور شاہین بھارتی میڈیا ویسٹ انڈیز

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت