پاک ویسٹ انڈیز 3 ون ڈے میچز کو ٹی20 میں تبدیل کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کو ٹی20 فارمیٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ون ڈے میچز کی سیریز کو ٹی20 انٹرنیشنل میں تبدیل کرنے کے حوالے سے دونوں بورڈز کے درمیان مشاورتی عمل جاری ہے، یہ تجویز ٹی20 ایشیاکپ اور ٹی20 ورلڈکپ کو مدنظر رکھتے ہوئے سامنے آئی ہے۔
زیادہ ٹی20 میچز کھیلنے کا مقصد قومی ٹیم کی اہم ایونٹس کیلئے تیاری کروانا اور بہتر کمبینیشن بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: رضوان، شان کا بطور کپتان مستقبل خطرے میں!
پاکستانی ٹیم کو جولائی کے آخر میں وائٹ بال سیریز کیلئے امریکا اور ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا ہے، ٹی20 میچز 31 جولائی، 2 اور 3 اگست کو فلوریڈا میں شیڈول ہیں جبکہ 3 ون ڈے 8، 10 اور 12 اگست کو ٹرینیڈاڈ میں ہوں گے۔
مزید پڑھیں: نو لُک شاٹ پر ہونیوالی تنقید پر صائم بھی بول اُٹھے
اس سے پہلے پاکستان اور بنگلادیش بورڈز نے 3 ون ڈے اور 3 ٹی20 میچز کی سیریز کو 5 ٹی20 میچز میں تبدیل کردیا تھا، بعدازاں پاک بھارت کشیدگی کے سبب سیریز کو 3 میچز تک محدود رکھنی پڑی۔
اس سیریز میں پاکستان نے بنگلادیش کو وائٹ واش کیا تھا جس میں نوجوان کھلاڑیوں نے ہوم گراؤنڈ پر شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں تبدیل ٹی20 میچز
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :