نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر گفتگو WhatsAppFacebookTwitter 0 11 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میری نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تعاون پر بھی بات چیت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا، معاشی استحکام کا سفر ایک معجزہ ہے : وزیرِاعظم پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا، معاشی استحکام کا سفر ایک معجزہ ہے : وزیرِاعظم احسن اقبال کا ہرجانہ دعویٰ، مراد سعید کے وکلاء غیر حاضر، عدالت کا نئی تاریخ کا حکم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی نئی تاریخ سامنے آگئی ماہ رنگ بلوچ کی ایم پی او کے تحت گرفتاری سپریم کورٹ میں چیلنج وزیر اعظم شہباز شریف کل متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے سات ہزار میں سے 4 ہزار ٹیرف لائنز میں کسٹم ڈیوٹی ختم کردی، تنخواہ دار طبقے کو ہرممکن ریلیف دیا،وزیرخزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔