اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں کم از کم تنخواہ نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کم از کم اجرت کو موجودہ سطح، یعنی 37 ہزار روپے پر ہی برقرار رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت مالی حالات ایسے نہیں کہ مزید ریلیف دیا جا سکے۔ حکومت جو بھی ریلیف دے رہی ہے وہ قرض لے کر دیا جا رہا ہے، اس لیے اخراجات پر قابو پانا ضروری ہو گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے کئی ایسی چیزوں کو پیچھے لایا ہے جو پہلے کبھی واپس نہیں ہوتیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اخراجات میں اضافہ بہت محدود رکھا گیا ہے اور اس بار وفاقی اخراجات میں صرف دو فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے زرعی شعبے، لائیو اسٹاک اور چھوٹے کسانوں کی مالی مدد پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان شعبوں کے لیے پالیسی سازی اور صوبوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ موجودہ کم از کم اجرت گزشتہ سال 37 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی، جو اس بجٹ میں بھی برقرار رہے گی۔
مزیدپڑھیں:امریکی خاتون نے سوشل میڈیا پر دوستی کے بعد جھنگ پہنچ کر نوجوان سے شادی کرلی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور