میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں حماس کے سینئر رہنماء کا کہنا تھا کہ ہم فضائی امداد کہلانے والی تمسخرانہ کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ نسل کشی کے جرم کو چھپانے کیلئے محض پروپیگنڈہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے سینئر رہنماء "خلیل الحیه" نے کہا کہ غزہ کے عوام کی قربانیوں اور مظلومیت کی صدا ہمارے کانوں میں امانت ہے۔ اس لئے ہم کبھی بھی اپنی عوام کا خون ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے غزہ کی عوام کی ثابت قدمی کو سراہا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ غزہ کے حریت پسند ایک ایسا بوجھ اٹھا رہے ہیں جسے پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے اور عالمی طاقتیں اس کے سامنے بے بس ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزاحمتی قوتوں کو سلام پیش کیا۔ خلیل الحیہ نے القسام بریگیڈ، سرایا القدس اور دیگر گروپوں کے مجاہدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے "گیڈعون رتھ" نامی فوجی آپریشن کو ناکام بنا دیا۔ دشمن آرمی چیف اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے نہتی عوام کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم نے رفح کراسنگ کو موت اور بھوک کا راستہ بنا دیا تا کہ وہ ہماری عوام کو جبری بے گھر کرنے کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ مصر کے فیصلہ کن موقف کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ غزہ نہ تو بھوک سے مرے گا اور نہ ہی یہ قبول کرے گا کہ دشمن رفح کراسنگ کو بند رکھے۔

حماس کے اس اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا کہ ہم قابل قدر اقدامات، خاص طور پر یمن کی فوجی و عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ عالمی تحریکوں اور غزہ کے لیے سمندری و زمینی امدادی قافلوں جیسے موثر اقدامات کے ساتھ فخر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم آخر تک غزہ میں اپنی عوام کے ساتھ وفا نبھائیں گے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ مصیبت ختم ہو گی اور حق غالب آئے گا۔ مذاکرات کے بارے میں خلیل الحیہ نے کہا کہ جب تک غزہ کی پٹی میں ہمارے بچے اور خواتین محاصرے، نسل کشی و بھوک کا شکار ہیں، مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمارے لوگوں کے لیے فوری اور باعزت خوراک و ادویات کی ترسیل، مذاکرات کو جاری رکھنے کی افادیت کا واحد حقیقی اور سنجیدہ ثبوت ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کبھی بھی قبول نہیں کریں گے کہ ہماری قوم اور اس کے مصائب کو قابضین کی سیاست کی نذر کیا جائے۔ خلیل الحیہ نے کہا کہ ہم فضائی امداد کہلانے والی تمسخرانہ کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ نسل کشی کے جرم کو چھپانے کے لیے محض پروپیگنڈہ ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم امت اسلامی سے کہتے ہیں کہ آج کی خاموشی کمزوری کی نہیں بلکہ جرم کی علامت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خلیل الحیہ نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا