پنجاب کابجٹ13 جون کو پیش کرنے کافیصلہ، کوئی نیا ٹیکس نہ لگانےکی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
لاہور: پنجاب حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنےکافیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی اہداف سامنے آنےکے بعد پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کوحتمی شکل دیناشروع کردی ہے اور بجٹ 13 جون کا پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانےکی تجویزہے جب کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موجودہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کم رکھاجائےگا۔
ریونیو اتھارٹی نان ٹیکس پیئر شعبوں کو شامل کرنے کی تجویز دےگی اورہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں امن وامان، صحت، تعلیم اورسیاحت پرتوجہ دی جائےگی، تعلیم کےلیے پچھلے سال کے مقابلے میں 110 ارب روپے زیادہ مختص کرنے اور صحت کے بجٹ میں 90 ارب روپے زیادہ رکھےجانے کی تجویز ہے، آئندہ بجٹ میں 600 فیصد اضافے کا امکان ہے جب کہ پنجاب بھرمیں سینیٹیشن اور صاف پانی کی متعدد اسکیمیں لائی جارہی ہیں۔
پنجاب حکومت نے دیہاتوں کو اعلیٰ معیار ماڈل ویلیج بنانےکا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال میں پنجاب حکومت مجموعی طور پر 2400 دیہاتوں کو ماڈل ویلیج بنائےگی۔
آئندہ مالی سال کےبجٹ میں ماڈل ویلیج پروجیکٹ کے فنڈز مختص کیےجائیں گے، صوبے کے 800 دیہاتوں کو ماڈل ویلج بنانےکےلیے پنجاب حکومت فنڈز فراہم کرےگی جب کہ 1600 دیہاتوں کوماڈل ویلیج بنانےکےلیےگرانٹ ورلڈ بینک فراہم کرےگا۔
مرحلہ وار پنجاب کے 60 فیصد سے زائد دیہات کو ماڈل ویلیج بنایا جائےگا اور ماڈل ویلیجز میں گلیوں کی صفائی، واٹر سپلائی لائنز اور اسٹریٹ لائٹس فراہم کی جائیں گی۔ پنجاب حکومت نے بجٹ میں کسانوں کوگندم، چاول کےبیج اور کھادکے لیےاضافی فنڈز مہیا کرنےکی تجویز بھی رکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئندہ مالی سال پنجاب حکومت نے کی تجویز سال کے کے بجٹ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔