بی جے پی کے ترقیاتی وعدے کی طرح علاج بھی صرف کاغذی ہے، اکھلیش یادو
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے لکھا کہ یہ سنجیدہ جانچ کا معاملہ ہے کہ کہیں یہ ناممکن ایکسرے کسی اور کے اصلی ایکسرے کی فوٹو کاپی تو نہیں ہے جسے کسی دوسرے مریض کا بتا کر صرف فائل پوری کی جا رہی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اترپردیش کی یوگی حکومت اور بی جے پی پر صحت کے شعبے کی بدانتظامی کو لے کر سخت تنقید کی ہے۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ایکسرے رپورٹ کو عام کاغذ پر دکھایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے بی جے پی کی صحت خدمات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ترقیاتی دعووں اور سرمایہ کاری کی طرح ان کی طبی جانچ اور علاج بھی صرف کاغذی ہیں۔
اکھلیش یادو نے ویڈیو کے ساتھ لکھا "یہ بی جے پی کے بدانتظامی کا ایکسرے ہے، یہ سنجیدہ جانچ کا معاملہ ہے کہ کہیں یہ ناممکن ایکسرے کسی اور کے اصلی ایکسرے کی فوٹو کاپی تو نہیں ہے جسے کسی دوسرے مریض کا بتا کر صرف فائل پوری کی جا رہی ہو"۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ غلط علاج بھی کیا جا رہا ہو، فوری طور پر اعلٰی سطحی جانچ بیٹھائی جائے اور سچ سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یوگی کے راج میں کمال کی ایکسرے رپورٹ کاغذ میں دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریاست کے وزیر صحت کو مشورہ دیا کہ وہ غیر ضروری سیاست چھوڑ کر اپنے محکمے پر توجہ دیں۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر سلطان پور میڈیکل کالج کی ایکسرے رپورٹ سے متعلق ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے۔
اس معاملے کو پہلے بھی عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے اٹھایا تھا۔ انہوں نے بھی ایک ویڈیو شیئر کیا اور لکھا "کیا آپ نے کبھی کاغذ کے صفحے پر ایکسرے فلم دیکھی ہے، نہیں تو سلطان پور کے میڈیکل کالج میں آئیں، یہاں برسوں سے کاغذ پر ایکسرے دیا جا رہا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ نہ کوئی مستقل ریڈیولوجسٹ ہے نہ کوئی بہتر بندوبست۔ اکھلیش یادو نے اس ویڈیو کے علاوہ ایک اور پوسٹ میں بی جے پی پر بالواسطہ حملہ کرتے ہوئے کہا "بی جے پی میں جو لوگ اپنے سماج کو ووٹ بینک بنا کر استعمال کئے جانے کے بعد نظر انداز کئے جانے کے گواہ بنے ہیں، وہ جب دل سے بولتے ہیں تو سچ ہی بولتے ہیں"۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اکھلیش یادو نے انہوں نے بی جے پی کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔