غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ پہنچنے والا ہے۔
برطانوی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ یہ اقدام ایک خصوصی اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ ان بچوں کو وہ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جو غزہ میں دستیاب نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے، غزہ کے ڈاکٹروں کی گواہی
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جولائی میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کی زیادہ تر اسپتال اب کام نہیں کر پا رہے۔ حکومت کے مطابق یہ اسکیم اس لیے ضروری ہے کہ علاقے میں ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے اور ڈاکٹروں کے لیے بھی محفوظ طریقے سے کام کرنا ممکن نہیں رہا۔
وزارتِ صحت کے مطابق ’ہم توقع کرتے ہیں کہ بچے اور ان کے قریبی اہلِ خانہ آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ پہنچ جائیں گے۔‘ برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ پہلا گروپ ’غزہ سے نکل چکا ہے اور برطانیہ کے راستے پر ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق بچوں کو فی الحال خطے کے ایک اور ملک میں طبی عملہ دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چند ہفتوں میں غزہ کے اڑھائی لاکھ سے زیادہ شہری نقل مکانی کر چکے، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اس سے قبل چند زخمی غزہ کے بچے ایک نجی پروگرام ‘پروجیکٹ پیور ہوپ’ کے تحت برطانیہ لائے گئے تھے۔ مگر حکومت نے نئی اسکیم کے تحت آنے والے بچوں کی درست تعداد نہیں بتائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں 30 سے 50 بچے لائے جا سکتے ہیں۔
برطانوی حکام غزہ کے ان طلبہ کو نکالنے پر بھی کام کر رہے ہیں جنہیں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ مل چکا ہے۔ کوپر کے مطابق ’یہ ایک بڑا سفارتی عمل ہے تاکہ ان بچوں اور طلبہ کو غزہ سے نکالا جا سکے اور مختلف ممالک کے راستے برطانیہ لایا جا سکے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
علاج غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علاج فلسطین کے مطابق کے لیے غزہ کے
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔