غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ پہنچنے والا ہے۔

برطانوی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ یہ اقدام ایک خصوصی اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ ان بچوں کو وہ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جو غزہ میں دستیاب نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے، غزہ کے ڈاکٹروں کی گواہی

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جولائی میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کی زیادہ تر اسپتال اب کام نہیں کر پا رہے۔ حکومت کے مطابق یہ اسکیم اس لیے ضروری ہے کہ علاقے میں ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے اور ڈاکٹروں کے لیے بھی محفوظ طریقے سے کام کرنا ممکن نہیں رہا۔

وزارتِ صحت کے مطابق ’ہم توقع کرتے ہیں کہ بچے اور ان کے قریبی اہلِ خانہ آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ پہنچ جائیں گے۔‘ برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ پہلا گروپ ’غزہ سے نکل چکا ہے اور برطانیہ کے راستے پر ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق بچوں کو فی الحال خطے کے ایک اور ملک میں طبی عملہ دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چند ہفتوں میں غزہ کے اڑھائی لاکھ سے زیادہ شہری نقل مکانی کر چکے، اسرائیلی فوج کا دعویٰ

اس سے قبل چند زخمی غزہ کے بچے ایک نجی پروگرام ‘پروجیکٹ پیور ہوپ’ کے تحت برطانیہ لائے گئے تھے۔ مگر حکومت نے نئی اسکیم کے تحت آنے والے بچوں کی درست تعداد نہیں بتائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں 30 سے 50 بچے لائے جا سکتے ہیں۔

برطانوی حکام غزہ کے ان طلبہ کو نکالنے پر بھی کام کر رہے ہیں جنہیں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ مل چکا ہے۔ کوپر کے مطابق ’یہ ایک بڑا سفارتی عمل ہے تاکہ ان بچوں اور طلبہ کو غزہ سے نکالا جا سکے اور مختلف ممالک کے راستے برطانیہ لایا جا سکے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

علاج غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: علاج فلسطین کے مطابق کے لیے غزہ کے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت