ایران کے کیمیکل پلانٹ میں آتشزدگی، 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بوشہر: ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں واقع ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بوشہر کے شہر دائیر میں قائم کاویہ پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے جائے حادثہ کی تصاویر نشر کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔
شہر دائیر کے گورنر علی رضا سجادی نے تصدیق کی کہ آگ کمپلیکس کی مخصوص بندرگاہ پر لگی تھی اور فائر بریگیڈ کی بروقت کارروائی سے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روک دیا گیا۔
دوسری جانب صوبہ بوشہر کے ڈائریکٹر جنرل کوروش دہغان نے بتایا کہ واقعہ ویلڈنگ آپریشن کے دوران پیش آیا، جہاں ایک دھماکہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں اموات ہوئیں۔
حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی تھیں جبکہ زخمیوں کو نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق آگ نے کیمیکل پلانٹ کے بعض حصوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل ایران کی بندر عباس میں واقع شاہد راجائی بندرگاہ پر بھی اسی نوعیت کا ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا، جس میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے اور املاک کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کو انتظامی غفلت کا نتیجہ قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔