دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں صرف 114 ارب روپے کا اضافہ کیا، سال 25-2024ء میں ترقیاتی بجٹ 414 ارب روپے تھا جو آنے والے بجٹ میں 528 ارب روپے کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبرپختونخوا حکومت کا 13 جون کو پیش ہونے والے بجٹ کی میڈیا نے دستاویزات حاصل کرلیں۔ دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں صرف 114 ارب روپے کا اضافہ کیا، سال 25-2024ء میں ترقیاتی بجٹ 414 ارب روپے تھا جو آنے والے بجٹ میں 528 ارب روپے کیا جا رہا ہے۔ آنے والے بجٹ میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 195 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، لوکل گورنمنٹ کے لیے 45 ارب روپے مختص کرنے کا امکان کیا ہے، ضم اضلاع سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 33 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

اینول ایکسلاریڈٹ پروگرام ( اے آئی پی ) کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، فارن پراجیکٹ اسسٹنس کے لیے 175 ارب روپے رکھے جائیں گے۔
علاوہ ازیں پی ایس ڈی پی کے لیے 29 ارب روپے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے کل 528 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا حکومت ارب روپے مختص ترقیاتی بجٹ والے بجٹ کے لیے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا