مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ ریلیف کے نام پر تنخواہ دار طبقے کے ساتھ مذاق کیا گیا۔

انہوں نے پشاور میں وفاقی بجٹ سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ 12 لاکھ سالانہ تنخواہ دار افراد کے لیے صرف 2 ہزار ماہانہ ریلیف ہے جبکہ 18 اور 30 لاکھ تنخواہ والے لوگوں کے لیے بالترتیب تقریباً 4 اور 18 ہزار کا ماہانہ ریلیف ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کم ہوئی ہے تو غربت کیسے بڑھ گئی، ورلڈ بینک کے مطابق 45 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔

2.

7 فیصد جی ڈی پی گروتھ بھی شرمندگی والا نمبر ہے، مزمل اسلم

مزمل اسلم نے کہا کہ اس سال عید پر پہلی بار 30 فیصد مال مویشی کراچی سے واپس گئے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے بجٹ میں کاربن ٹیکس لگایا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے گردشی قرضوں کے خاتمے کےلیے بجلی کے نرخ پر سرچارج لگا دیا جائے گا۔ سولر پینلز درآمدات پر 18 فیصد ٹیکس غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ بینک اور میوچل فنڈ پرافٹ پر ٹیکس میں 15 سے 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، وفاقی حکومت کہہ رہی ہے معیشت بہتر ہوئی ہے۔

وفاقی بجٹ میں ترقیاتی فنڈز صرف 1 ہزار ارب روپے ہے، جبکہ پچھلے سال 1400 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا گیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کےلیے کوئی ترقیاتی منصوبہ شامل نہیں۔ ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں کےپی کے لیے 54 کروڑ روپے رکھے گئے۔ بجٹ میں تباہ حال زراعت، صنعت کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا، آن لائن شاپنگ پر 18 فیصد ٹیکس ایک ساتھ لگا دیا گیا۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کا کہنا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار