Daily Mumtaz:
2026-07-24@04:40:57 GMT

مخلوط حکومت کا دوسرا بجٹ،  ملازمین کو نمایاں ریلیف

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

مخلوط حکومت کا دوسرا بجٹ،  ملازمین کو نمایاں ریلیف

 اسلام آباد(طارق محمودسمیر)وزیراعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کردیا گیا، جسے حکومت متوازن اور موجودہ حالات کے مطابق بہترین بجٹ قراردے
رہی ہے جب کہ اپوزیشن نے اسے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن والااور عوامی مفادات کے منافی بجٹ قراردیا،بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جہاں 10فیصداضافہ کیاگیاوہیں انکم ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی،6لاکھ سالانہ آمدن والوں کو ٹیکس سے استثنیٰ دے دیاگیاہے جب کہ 12سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح پانچ فیصدسے کم کرکے دواعشاریہ پانچ فیصد،بائیس سے بتیس لاکھ سالانہ آمدن پر ٹیکس پچیس سے کم کرکے تیئس فیصد،سیکرٹریٹ ملازمین کے ساتھ طے پانیوالے معاہدے کے مطابق 30فیصد ڈسپیئرٹی الاونس کااعلان کردیاگیا،پراپرٹی کے شعبے میں بھی ٹیکس میں کمی کرتے ہوئے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کردیاگیا،دفاعی بجٹ میں بیس فیصداضافہ ایک خوش آئنداور حالات کے مطابق درست فیصلہ ہے،  بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کونمایاں ریلیف فراہم کیاگیا،تنخواہوں میں 10فیصداضافہ کرنے کے علاوہ ان کے لئے ٹیکس سلیبز میں بھی نمایاں کمی کی گئی ، سالانہ 6 سے 12 لاکھ روپے تنخواہ والوں کے لئے ٹیکس کی شرح کو 1 فیصد مقرر کر دیاگیا، 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی رقم کو 30 ہزار روپے سے کم کر کے صرف 6 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی،اسی طرح 22 لاکھ روپے تک کی سالانہ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا گیا، مزید برآں 22 سے 32 لاکھ روپے کی تنخواہ والوں کے لئے ٹیکس کی شرح کو بھی کم کر کے 23 فیصد مقرر کیا گیا ،اس اقدام کا مقصد ان پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے،گریڈ ایک تا سولہ کے ملازمین کو تیس فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز ہے ، تنخواہ دار اور چھوٹے کاروباری افراد کے لئے آسان اور صارف دوست ریٹرن فارم متعارف کرانے کابھی اعلان کیاگیا، صرف7 بنیادی معلومات درکار ہوں گی اور صارف دوست ریٹرن فارم بھرنے کیلئے وکیل یا ماہر کی ضرورت نہیں ہوگی ،  نئے مالی سال میں دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کے ساتھ 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،اسی طرح فوجی افسران اور جوانوں کے لئے سپیشل ریلیف الاؤنس کااعلان بھی کیاگیا،ملکی سلامتی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظردفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیرتھا، اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیاجاناچاہئے کیونکہ ملکی دفاع اور سلامتی سب سے مقدم ہے ،بجٹ میں آبی وسائل کے لئے 133 ارب روپے کی مختص کی گئی ،دیا مر اور بھاشا ڈیم کے لئے بتیس اعشاریہ سات ارب روپے، مہمند کے لئے پینتیس اعشاریہ سات ارب، آوران پنجگور سمیت بلوچستان کے دیگر 3 ڈیمز کے لئے 5 ارب مختص کیے گئے ،آبی وسائل کے لئے خطیررقوم مختص کیاجانا خوش آئنداقدام ہے ، وزیر خزانہ بجٹ تقریرمیں کہا کہ بھارت پانی روکنے کی دھمکی دے رہا ہے ، آبی ذخائر میں جنگی بنیادوں پر اضافہ کرنا ہوگا، واٹراسٹوریج میں 10 ملین ایکڑفٹ کا اضافہ کیا جائے گا، پانی کے ضیاع میں 33 فیصد کمی کی جائے گی، پاکستان کی معیشت کازیادہ تر انحصارچونکہ زراعت پر ہے ،اس تناظرمیں بھارت کی طرف سے آبی جارحیت سیممکنہ غذائی بحران کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہے،حکومت پاکستان بھارتی آبی جارحیت کے خلاف سفارتی محاذ پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے لئے اپنی داخلی سطح پر بھی آبی تحفظ کی حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے، بجٹ میں سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے،اس سے سولرپینلزکی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا،شمسی توانائی سستی توانائی کے مؤثرذریعہ ہے ،بھاری ٹیکس کے نفاذ سے شمسی توانائی کے فروغ کی کوششیں متاثرہوں گی ، حکومت کو چاہئے کہ سولرپینلزپربھاری ٹیکس کے نفاذ پر نظرثانی کرے تاکہ شمسی توانائی کو فروغ دیاجاسکے جوماحول دوست بھی ہے، مجموعی طور پردیکھاجائے تو آئی ایف کی کڑی شرائط اورمعاہدوں پر عملدرآمدکویقینی بناتے ہوئے ایک متوازن بجٹ پیش کرنے کی سعی کی گئی کیونکہ آئی ایم ایف کے بغیرمعیشت میں استحکام ناممکن تھا بلکہ ایک زمانے میں تو ڈیفالٹ کا شدیدخطرہ موجودتھااور اس وقت وزیراعظم شہبازشریف کی کوششوں سے نہ صرف یہ خطرات ٹلے بلکہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیادبھی رکھی گئی،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ موجود ہ حالات کے مطابق کم ہے یہ اضافہ پندرہ سے بیس فیصدہوناچاہئے تھاکیونکہ وزیراعظم خود بارہایہ کہتے رہے ہیں کہ تنخواہ دارطبقے نے چارسوارب روپے کاٹیکس اداکیاجو ایک ریکارڈ ہے مجھ سمیت اشرافیہ کو اس کاجواب دیناہے،وزیراعظم ایسے سوالات اٹھانے کی بجائے ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصول کریں ،ایف بی آرکو کرپشن سے پاک کریں ،ریٹیلرزاورپرچون سے ٹیکس وصولی کی حکمت عملی کااعلان نہیں کیاگیااس بارے میں توقع ہے کہ بجٹ پاس ہونے سے پہلے مزیداقدامات سامنے آئیں گے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش