وفاقی حکومت نے قومی بچت سکیموں پر منافع کی شرح میں تبدیلی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں ردو بدل کردیا ہے، جس کے تحت سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح برقرار جبکہ باقی تمام بچت اسکیموں پر منافع کی شرح کم کردی گئی ہے تاہم سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس اور سروس اسلامک سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھائی گئی ہے۔
محکمہ قومی بچت نے منافع کی شرح میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق قومی بچت اسکیموں پر منافع کی نئی شرح کا اطلاق 28 جولائی سے ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیونگ اکاؤنٹس اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح کم کرکے 10.
جانوروں کی آوازیں نکال کر لوگوں کو یوگا کروانے والا سب سے انوکھا یوگی
نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح کم کرکے 10.68 فیصد، بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹ اور پنشنر بینیفٹس اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 12.96فیصد، تین ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح 10.32 فیصد، 6 ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح10.20 فیصد کردی گئی ہے۔
اسی طرح ایک سال کی مدت کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح 10.14 فیصد کردی گئی ہے جبکہ سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 9.35 فیصد ہی برقرار رکھی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک سال کی مدت کے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر 9.94 فیصد، تین سال کی مدت کے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر10.30 فیصد، 5 سال کی مدت کے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر 10.80 فیصد اور سروا اسلامک اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر 9.94 فیصد کردی گئی ہے۔
جمائما نے بیٹوں کو پاکستان جانے سے روک دیا ، امریکہ سے سیدھا لندن واپس بلا لیا ، نجی ٹی وی کا دعویٰ
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس فیصد کردی گئی ہے سیونگ اکاؤنٹس سال کی مدت کے قومی بچت
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔