MUMBAI:

بھارتی فلم انڈسٹری میں کئی عجیب واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جس میں اداکارہ کو فلم میں کام کے لیے قائل کرنے کے لیے پھولوں سے بھرا ٹرک پیش کرنے اور فلموں کی کامیابی سمیت دیگر معاملات پر منفرد واقعات پیش آتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ساؤتھ فلم انڈسٹری کے مشہور اسٹار وجے انٹونی کے ساتھ ایسا افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد انہوں نے جوتے پہننے ترک کردیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ساؤتھ فلم انڈسٹری کے مشہور اسٹار کو بڑی اسکرین میں خوب پسند کیا جاتا ہے لیکن ان کو  زندگی میں انتہائی دلدوز واقعہ پیش آیا کہ وہ حیرت انگیز اور مشکل کام کر رہے ہیں۔

وجے انٹونی کی شادی فاطمہ وجے انٹونی سے ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں میرا اور لارا تھیں لیکن ان کی بڑی بیٹی میرا نے 19 ستمبر 2023 کو اپنے گھر میں پھندا لگا کر خودکشی ہے، گھریلو ملازمہ نے ان کی لاش دیکھی اور اس واقعے پر پورا خاندان گہرے صدمے میں چلا گیا۔

فلم ڈائریکٹر وجے ملٹن نے انکشاف کیا کہ وجے انٹونی نے فیصلہ کیا تھا کہ اپنی بیٹی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اب کبھی جوتے نہیں پہنیں گے اور میرا کی موت کو بھلانے کے لیے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کی لیکن تاحال اس صدمے سے نکل نہیں پائے۔

وجے ملٹن نے بتایا کہ میں وجے انٹونی کو 20 سال سے جانتا ہوں لیکن گزشتہ دو برس سے میں ان سے بہت قریب ہوں کیونکہ میں نے ان کی زندگی کے سب سے بدترین دور کو قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔

فلم ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسٹار اداکار پچاکاران 2 کی شوٹنگ کے دوران شدید زخمی ہوگئے تھے اور اس کے فوری بعد ان کی بیٹی میرا کا انتقال ہوگیا اور اس صدمے سے باہر آنے کے لیے انہوں نے خود کام میں مکمل طور پر مصروف رکھنا شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا اس کے باوجود وہ تاحال اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وجے انٹونی کے لیے

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود