شوہرکا شاپنگ سے انکار، ڈیڑھ کروڑ کی چوری کی ملزمہ گھر کی مالکن
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:پنجاب کے دارالحکومت کے علاقے شادباغ میں پیش آنے والی ڈیڑھ کروڑ روپے کی چوری کی واردات کا ڈرامائی اور حیران کن انجام سامنے آ گیا ہے، ابتدائی رپورٹ پر معلوم ہوا کہ گھر میں نامعلوم افراد نے بڑی رقم اور قیمتی زیورات چوری کر لیے ہیں، پولیس تفتیش نے معاملے کا رُخ ہی بدل دیا، واردات کسی بیرونی شخص نے نہیں بلکہ خود گھر کی مالکن نے اپنے ڈرائیور کے ساتھ مل کر کرائی تھی۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق چند روز قبل شادباغ تھانے کی حدود میں واقع ایک گھر سے نقدی اور زیورات کی چوری کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی جس کی مالیت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے بتائی گئی، کیس کو حساس نوعیت کا قرار دے کر تفتیش ویمن تھانہ ریس کورس کو منتقل کی گئی۔
ویمن تھانے کی تفتیشی ٹیم نے گھر کے ملازمین سے پوچھ گچھ کا آغاز کیا اور جلد ہی شواہد اور بیانات کے تضادات سامنے آنے لگے، تفتیش کے دوران کئی کڑیاں ملتے ملتے براہ راست گھر کی مالکن سے جا ملیں، مالکن نے پہلے چوری کا ڈرامہ رچایا اور اپنے ڈرائیور کے ساتھ مل کر رقم و زیورات کو چھپایا۔
پولیس نے گرفتاری کے بعد دورانِ تفتیش ملزمہ اور اس کے ساتھی ڈرائیور سے چوری کی مکمل تفصیل اور اعتراف حاصل کیا، پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے نقد رقم اور قیمتی زیورات برآمد کر لیے ہیں، ملزمہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شوہر سے شاپنگ کا کہا تھا لیکن شوہر نے انکار کردیا جس کے بعد میں نے ڈرائیور کے ساتھ مل کر چوری کا ڈرامہ رچایا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر گھریلو مالی دباؤ یا ذاتی تنازعات کے باعث یہ قدم اٹھایا، مکمل محرکات کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
ویمن تھانے کی پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، مزید تفتیش جاری ہے اور اگر اس واردات میں کسی اور فرد کا کردار سامنے آیا تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ بھی ایسے جعلی مقدمات اور منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی وارداتوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی تاکہ شہریوں کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چوری کی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔