وزارت داخلہ میں تمام ادارے باہمی تعاون کریں، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت وزارت داخلہ میں اہم اجلاس ہوا جس میں وزارت داخلہ کے تمام ذیلی اداروں کے مابین باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، نادرا، پاسپورٹ، ایف آئی اے سمیت وزارت داخلہ کے تمام ذیلی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ مام ذیلی اداروں کے مابین باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے، تمام ادارے ایک دوسرے کی استعداد کار سے بھر پور فائدہ اٹھائیں اور عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ انفارمیشن اور ڈیٹا کا بروقت تبادلہ انتہائی اہم ہے، مختلف اداروں کے بیرون
ملک سفارت خانوں میں تعینات افسران وزارت کے دیگر اداروں کو بھی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، تمام اداروں کی افرادی قوت سے بھرپور استفادہ کرنا ہو گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ باہمی کوآرڈینیشن بہتر ہونے سے عوام کے ساتھ حکومت کو بھی فائدہ پہنچے گا، تربیتی کورسز میں صرف میرٹ پر پورا اترنے والے افسران کو نامزد کیا جائے تاکہ متعلقہ افسران کی استعداد کار میں اضافہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزارت داخلہ اداروں کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔