پنجاب کا بجٹ، مریم نواز نے ٹیکس میں اضافہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)پنجاب حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 1200 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تیار کر لیا ہے، جس میں تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر، زراعت اور کاروباری سہولتوں سمیت مختلف شعبوں کی 2750 ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔محکمہ ترقیاتی و منصوبہ بندی کی جانب سے تیار کردہ یہ بجٹ ڈرافٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو پیش کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ بجٹ میں 1076 ارب روپے مقامی فنڈنگ سے جب کہ 124 ارب 30 کروڑ روپے غیر ملکی فنڈنگ سے حاصل کیے جائیں گے۔ ترقیاتی بجٹ میں 1412 جاری
منصوبوں کے لیے 536 ارب روپے، 1353 نئی اسکیموں کے لیے 457 ارب روپے، اور 32 پرانی اسکیموں کے لیے 207 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دوسری جانب چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کی تمام تجاویز مسترد کر دی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ موجودہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائے تاکہ عوام پر نیا بوجھ نہ پڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔