Express News:
2026-07-24@13:54:05 GMT

حکومت نے 345 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پارلیمنٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر خرچ کیے گئے 345 ارب روپے کی اضافی رقوم کے لیے قومی اسمبلی سے منظوری طلب کر لی ،ان اخراجات میں بھارت کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ کا کوئی خرچ شامل نہیں کیا گیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق 60 ارب روپے کی جو اضافی دفاعی گرانٹ دی گئی وہ جنگ سے متعلق نہیں بلکہ فوج نے بھارت سے جنگ کے اخراجات اپنے باقاعدہ منظور شدہ بجٹ سے پورے کیے۔

یہ منظوری نئے مالی سال کے بجٹ کے ساتھ طلب کی گئی ہے۔ اگرچہ حکومت نے اخراجات پر سخت کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا لیکن 344.

6 ارب روپے کی یہ رقم اس کے برعکس ہے، البتہ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم ہے۔

حکومت نے یہ اخراجات مختلف بجٹ شدہ مدات سے فنڈز نکال کر کیے، جس سے مجموعی بجٹ حجم متاثر نہیں ہوا تاہم اتنی بڑی ضمنی گرانٹس کا اجرا حکومتی بجٹ بندی اور مالی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق  حکومت نے عہد کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر آئندہ کوئی اضافی غیر بجٹ شدہ خرچ نہیں ہوگا، سوائے قدرتی آفات کے۔ حکومت یہ بھی وعدہ کر چکی ہے کہ کسی بھی بجٹ سے تجاوز کرنے والے خرچ کے لیے پیشگی منظوری حاصل کی جائے گی۔

بڑی ضمنی گرانٹس کی تفصیل کچھ یوں ہے ،115 ارب روپے آزاد بجلی گھروں کو ادائیگیوں کے لیے دیے گئے،دفاع پر 59.5 ارب روپے جن میں،23.3 ارب روپے فوج کی انسداد دہشتگردی صلاحیت کے لیے،8 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 

مختلف دفاعی منصوبوں کے لیے،7 ارب روپے جناح نیول بیس، اوڑمارا،8 ارب روپے اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (شمال و جنوب)،5 ارب روپے داخلی سیکیورٹی الاؤنس،2 ارب روپے آئی ایس پی آر کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے،1.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے،ریکوڈک منصوبہ کیلیے  3.7 ارب روپے،SCO کانفرنس کیلیے  1 ارب روپے،چینی شہریوں کی مالی معاونت کیلیے  25.8 کروڑ روپے ،ایف بی آر کو 2 ارب روپے افسران کے لیے،1.6 ارب روپے اینٹی اسمگلنگ پوسٹس،43 کروڑ روپے افسران کی رہائش ،86.9 کروڑ روپے ادارے کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ،سندھ میں 30 ارب روپے سیلاب متاثرین کے لیے،19.2 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظور کی گئی ہیں۔

پاک پی ڈبلیو ڈی اسکیمز کے لیے،7.2 ارب روپے گرین لائن بس و چھوٹے منصوبوں کے لیے،وزارت داخلہ کو 4.3 ارب روپے نیشنل فارنزک ایجنسی، چیک پوسٹس، خواتین کی سہولیات، اور قبائلی علاقوں میں پانی کی اسکیموں کے لیے،ذرائع کے مطابق  ضمنی گرانٹس کے ذریعے کی جانے والی یہ فنڈنگ اکثر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کی منظوری سے کی گئی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بجٹ سازی کے عمل میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب روپے کی ارب روپے ا حکومت نے

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی  
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ