فنکاروں کے حالات اور ذہنی صحت سے باخبر رہنے کیلئے واٹس ایپ گروپ بنایا گیا ہے، طوبیٰ انور
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اداکارہ طوبیٰ انور کا کہنا ہے کہ شوبز اداکاراؤں کی ذہنی صحت اور حالات سے باخبر رہنے کیلئے کے لیے واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔
اداکارہ طوبیٰ انور نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری سے وابستہ چند اداکاراؤں نے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا ہے جس کا مقصد ایک دوسرے کی ذہنی صحت کے بارے میں باقاعدگی سے رابطے میں رہنا اور ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اداکارہ حمیرہ علی کی افسوسناک موت کے بعد اُٹھایا گیا ہے جو مبینہ طور پر تنہائی کا شکار تھیں اور انہیں سماجی سپورٹ حاصل نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی بہت سی اداکارائیں ہیں جو اپنے گھروں سے دور کام کیلئے رہتی ہیں ان سب کو اس گروپ میں شامل کیا جارہا ہے۔ حمیرا کی موت نے انڈسٹری میں ذہنی صحت اور باہمی تعاون کی اہمیت پر توجہ دلوائی ہے۔
https://www.instagram.com/reel/DL-dns5NqJx/
طوبیٰ انور نے کہا کہ اس گروپ کے ذریعے اداکارائیں نہ صرف اپنے خیالات کا تبادلہ کرتی رہیں گی بلکہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی کوشش بھی کریں گی تاکہ کوئی تنہائی کا شکار نہ ہو۔ کیونکہ ان کی بھی بہت سی ایسی دوستیں ہیں جو کسی اور شہر سے کام کے سلسلے میں آئی ہوئی ہیں اور حمیرا کی موت کا اُن پر گہرا اثر پڑا ہے۔
واضح رہے کہ شوبز کی دنیا میں دباؤ، مقابلہ اور تنہائی عام مسائل ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے اس قسم کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔