واٹس ایپ میں پاس کیز فیچر متعارف، بیک اپ تک رسائی مزید آسان
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک اہم اپڈیٹ جاری کی ہے جس کے تحت اب پاس کیز (Passkeys) کے ذریعے انکرپٹڈ بیک اپ تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ نے تھرڈ پارٹی گروپس متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی
اس نئے فیچر کے ذریعے وہ صارفین جو اپنا فون کھو بیٹھیں، اب اپنے واٹس ایپ ڈیٹا یا بیک اپ تک رسائی مختلف طریقوں سے حاصل کر سکیں گے، جن میں فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا سابقہ ڈیوائس کا اسکرین لاک کوڈ شامل ہیں۔
میٹا کے زیرِ ملکیت واٹس ایپ نے 2021 میں چیٹ بیک اپ کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن متعارف کرائی تھی، جس میں صارفین کو پاس ورڈ یا 64 حروف پر مشتمل خفیہ کلید یاد رکھنی پڑتی تھی۔ تاہم اب پاس کیز کے اضافے سے یہ ضرورت ختم ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا اسٹیٹس زیادہ افراد تک پہنچا سکیں گے
واٹس ایپ نے رواں سال مئی میں بتایا تھا کہ اس کے فعال صارفین کی تعداد تین ارب سے تجاوز کر گئی ہے، اور جلد ہی یہ نیا فیچر تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔
ایپ میں انکرپٹڈ بیک اپ کو فعال کرنے کے لیے صارفین یہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں:
Settings > Chats > Chat Backup > End-to-End Encrypted Backup
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکرپٹڈ بیک اپ بیک اپ نیا فیچر واٹس ایپ واٹس ایپ فیچر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیک اپ نیا فیچر واٹس ایپ واٹس ایپ فیچر واٹس ایپ نے کے لیے بیک اپ
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔