ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اتحاد کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی قسم کے احتجاج سے فوری طور پر گریز کیا جائے، عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اتحاد کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی قسم کے احتجاج سے فوری طور پر گریز کیا جائے، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد :صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے فنانس ایکٹ کے حوالے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتے ، ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اتحاد کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی قسم کے احتجاج سے فوری طور پر گریز کیا جائے۔
اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت خزانہ کے ساتھ فیڈریشن میں منعقدہ اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز نے متنازع شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،
بزنس کمیونٹی کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 30اے ، 8بی ، 40بی اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 21ایس پر تحفظات ہیں ،وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی اور انکی ٹیم نے بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت نے متنازع شقوں پر غور اور بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے منگل تک کا وقت مانگا ہے ،
بات چیت مثبت سمت میں جاری،امید ہے حکومت خوش اسلوبی سے مسئلے کا حل نکالے گی ،ہر مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکلتا ہے اور مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا چاہئے ۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور بزنس کمیونٹی کا اعتماد بحال ہوا ہے ، لوگوں میں خوف کی فضا ختم ہونی چاہئے ، موجودہ حالات میں کوئی مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتے ، ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اتحاد کا مظاہرہ کرے،کسی بھی قسم کے احتجاج سے فوری طور پر گریز کیا جائے ،
فیڈ ریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری معاملے پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اگر حکومت نے ایک ہفتے میں مسائل کا حل نہ کیا تو فیڈریشن مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف آئی اے کا منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے اہم اقدام ملک میں چینی کی قیمت نے ڈبل سنچری مکمل کرلی ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 0.95فیصد بڑھ گئی، رپورٹ جاری پاکستان اور ویتنام کے مابین تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق چین اور ملا ئیشیا کو ، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے لیے تعاون کے منصوبوں پر عمل درآمد کر نا چاہیئے ، چینی... پاکستان نے ایس سی او میں ڈیجیٹل اکنامک کو آپریشن کے 12 منصوبوں پر دستخط کر دئیے غیر ملکی دوستوں کے لئے “چین کا دورہ زیادہ آسان اور پر کشش ہے ، چینی وزارت خارجہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کسی بھی قسم کے احتجاج سے فوری طور پر گریز کیا جائے عاطف اکرام شیخ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک