پیپلز پارٹی کا این اے 129 کی خالی ہونیوالی نشست پر ضمنی الیکشن لڑنیکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
میڈیا سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون سے ہمارا ایسا کوئی معاہدہ نہیں کہ پیپلز پارٹی ضمنی الیکشن میں نون لیگ کے مدمقابل الیکشن نہیں لڑیگی۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی نے میاں اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی این اے 129 کی نشست پر ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ میڈیا سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون سے ہمارا ایسا کوئی معاہدہ نہیں کہ پیپلزپارٹی ضمنی الیکشن میں نون لیگ کے مدمقابل الیکشن نہیں لڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو بیرون ملک ہیں، آج میں ان سے مشاورت کروں گا، مشاورت کے بعد جلد پیپلز پارٹی کے امیداروں سے درخواسیتیں لینے کی تاریخ دوں گا۔ نیئر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ہم حلقہ این اے 129 سے الیکشن لڑنے کے لئے اپنا پراسیسز مکمل کریں گے۔ واضح رہے گذشتہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اورنگزیب برکی تھے، جو میاں اظہر سے الیکشن ہار گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضمنی الیکشن پیپلز پارٹی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔