متاثرین میں سے ایک لیاقت نے جس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے، بتایا کہ اسے گھسیٹ کر کیمپ پر لے جایا گیا جہاں 40 سے زائد فوجیوں کے گھیرے میں اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے معصوم کشمیریوں پر تشدد، مار پیٹ اور اجتماعی سزا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے دوران سرینگر کے ایک پہاڑی علاقے میں بھارتی فوجیوں نے خانہ بدوش گجر قبائلیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق راجوری سے تعلق رکھنے والے محمد لیاقت، محمد اعظم، شوکت احمد اور عبدالقادر کو 50راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے سرینگر کے قریب پہاڑی علاقے ڈھگون میں ایک نئے قائم کردہ فوجی کیمپ میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایک اعلیٰ فوجی افسر کی سربراہی میں پیش آیا اور تمام گجروں کو علاقے سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ ”دی وائر” سے فون پر بات کرنے والے تین متاثرہ افراد نے بتایا کہ انہیں دو گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا اور لاٹھیوں سے جانوروں کی طرح مارا پیٹا گیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے دو سپاہیوں نے ہمیں بازئوں سے پکڑ رکھا تھا جبکہ افسر بے رحمی سے پیٹ رہا تھا۔

متاثرین میں سے ایک لیاقت نے جس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے، بتایا کہ اسے گھسیٹ کر کیمپ پر لے جایا گیا جہاں 40 سے زائد فوجیوں کے گھیرے میں اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا عسکریت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ تم پاکستان جائو۔ مار پیٹ کا نشانہ بننے والے محمد یوسف نے بتایا کہ اس نے فوجی اہلکار سے درخواست کی کہ لیاقت کو چھوڑ دو کیونکہ اگلے ہفتے اس کا آپریشن ہونے والا ہے لیکن افسر نے ان کی ایک نہ سنی اور اسے پیٹتا رہا۔ لیاقت نے بتایا کہ اب میری دوسری ٹانگ بھی ٹوٹ گئی ہے۔میں کھڑا ہو کر باتھ روم بھی نہیں جا سکتا۔ انہیں مجھے اس آزمائش میں ڈالنے کے بجائے گولی مار دینی چاہیے تھی۔

بدھل راجوری سے ایک قبائلی رہنما اور نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی جاوید چودھری نے اس حملے کو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور بھارتی فوجی افسران کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معصوم لوگوں کے خلاف اس طرح کے مظالم بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قصور واروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ہم بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ قبائلی گجر روایتی طور پر مویشیوں کو چرانے کے لئے ہر سال جموں خطے سے وادی کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ متاثرین نے بتایا کہ ہم نے انہیں فوجی کیمپ بنانے میں بھی مدد کی۔ محمد یوسف نے بتایا کہ ہم نے انہیں چائے پلائی اور ان کے کیمپ کے لیے لکڑیاں لے کر گئے۔ اب وہ ہمارے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ بھارتی فوجیوں کی جانب سے گجر اور بکروال برادریوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ یہ پرتشدد کارروائیاں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جاری جبر کی ایک مثال ہے جس سے مقامی آبادی میں خوف پھیل گیا ہے۔

دسمبر 2023ء میں پونچھ میں تین گجر افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ کئی دیگر کو معذور کر دیا گیا۔ رواں سال نومبر میں کشتواڑ میں چار شہریوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور علاقے کے فوجی محاصرے کے بعد سے اس طرح کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ جموں میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ظفر چودھری نے کہا کہ گجروں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے، انہیں لگتا ہے کہ انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے یا اس طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے جیسے ان کی زندگیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دریں اثناء سرینگر میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ الزامات کی تصدیق کے لیے متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم بھارتی فوج کے ترجمان نے میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تشدد کا نشانہ نشانہ بنایا نے بتایا کہ کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ