محبت میں گرفتار امریکی خاتون پاکستان پہنچ گئی، قبول اسلام کے بعد نوجوان سے شادی بھی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
محبت نے سرحدیں مٹا دیں اور سوشل میڈیا نے پھر دو دل ملادیے۔ امریکی خاتون محبت کی خاطر جھنگ پہنچ گئی، اسلام قبول کر کے سوشل میڈیا پر بنے دوست سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔
امریکا کی 27 سالہ شہری کیرِنشا میڈیسن گریس نے پاکستان آ کر اپنے سوشل میڈیا دوست نعیم الحسن سے شادی کر لی۔ جنوبی کیرولائنا کی رہائشی کیرنشا گزشتہ 2 سال سے جھنگ کے 29 سالہ نعیم الحسن سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھی۔
آن لائن دوستی رفتہ رفتہ محبت میں بدل گئی جس کے بعد کیرنشا نے پاکستان کا سفر کیا، جھنگ میں جامعہ عربیہ دارالہدیٰ میں اسلام قبول کیا اور کنیز عائشہ نام رکھ لیا، بعدازاں گواہوں کی موجودگی میں دونوں کا نکاح پڑھایا گیا۔
امریکی خاتون کا نام اونیا اینڈریو رابنسن ہے اور اسکا تعلق امریکا کی ریاست نیویارک سے ہے، اسکی عمر 33 برس ہے۔ وہ شادی شدہ اور مبینہ طور پر دو بچوں کی ماں ہے۔
کنیز عائشہ نے نکاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نعیم الحسن سے محبت کے باعث میں پاکستان آئی ہوں اور یہاں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں امریکا میں شادی شدہ تھی اور میرے 3 بچے ہیں، تاہم نعیم سے تعلق قائم کرنے سے قبل میں نے اپنے سابق شوہر سے باقاعدہ طلاق لے لی تھی۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل 33 سالہ امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کراچی آئیں تھیں تاکہ اپنے 19 سالہ سوشل میڈیا دوست سے شادی کرسکیں، تاہم شادی نہ ہو سکی اور انہیں واپس امریکا جانا پڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: امریکی خاتون سوشل میڈیا
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں