نیتن یاہو جولانی کیساتھ "ڈیل" کے درپے ہے، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
معروف امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی وزیراعظم، امریکہ کی ثالثی سے شامی باغی حکام کیساتھ بات چیت کا خواہاں ہے اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی تجزیاتی مجلے ایکسیس (Axios) نے 2 آگاہ اسرائیلی حکام سے نقل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی ایلچی سے کہا ہے کہ "ہم واشنگٹن کی ثالثی سے شام کے نئے باغی حکام کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں"۔ رپورٹ کے مطابق شام کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام بارک نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اپنے دورے کے دوران نیتن یاہو و دیگر اعلی صیہونی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ امریکی مجلے نے لکھا کہ اس سے ایک ہفتہ قبل ہی ٹام باراک کی جانب سے دمشق کا دورہ بھی انجام پایا تھا جہاں اس نے شامی باغی رہنما محمد الجولانی سے ملاقات کی تھی اور شامی دارالحکومت میں امریکی سفیر کی رہائشگاہ کو بحال کروایا تھا۔ اس دوران ٹام باراک نے شام و اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو "قابل حل مسئلہ" قرار دیا تھا اور پھر جب وہ گذشتہ ہفتے نیتن یاہو سے ملا، تو اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مَیں ٹرمپ-جولانی ملاقات کو امریکی ثالثی میں "شام کے ساتھ مذاکرات" کے آغاز کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہوں!
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔