کوٹری: خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرکے خاموشی سے دفنانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
سندھ کے شہر کوٹری میں خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرکے خاموشی سے دفنانے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 36 سالہ خاتون امبرین کو قتل کرکے خاموشی سے دفن کیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے، کوٹری پولیس کے مطابق علاقہ گوٹھ محمد خان شورو کی رہائشی خاتون مسمات بانو نے اپنی بیٹی کو قتل کیے جانے کا مقدمہ درج کرا دیا۔
مدعیہ نے مقدمہ میں 5 ملزمان مزار شورو، قادر بخش شورو، مجیب شورو، نبیل شورو اور ضمیر شورو کو نامزد کیا۔
مقدمے کے مطابق ملزمان نے رات گئے گھر میں گھس کر مقتولہ کو اہل خانہ کے سامنے گولیاں مار کر قتل کیا، ملزمان نے قتل کے بعد خاموش رہنے اور واویلا کرنے پر قتل کی دھمکیاں دیں۔
مدعیہ نے کہا کہ میری نواسی فائزہ چند روز قبل پسند کی شادی کرنے کیلئے گھر سے نکل گئی تھی، ملزم مزار شورو میری بیٹی امبرین کو دھمکیاں دیتا تھا کہ تو نے جان بوجھ کر لڑکی کو بھگایا ہے جس سے ہماری عزت خراب ہوئی ہے۔
مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ لاسکی، پولیس نے کہا کہ واقعہ کی رپورٹ درج کرلی ہے، تحقیقات کررہے ہیں۔
پولیس کے مطابق ایس ایس پی جامشورو کو معاملے سے آگاہ کردیا ہے عدالت سے قبر کشائی کی اجازت طلب کی جائے گی، ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔