9 سالہ بچی آسیہ کے قتل کا انکشاف مقدمہ درج، پولیس تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سرجانی ٹاؤن میں 9 سالہ بچی آسیہ کی ہلاکت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے پولیس نے واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا ہے پولیس کے مطابق پیر کو بچی کی لاش گھر کی چھت سے ملی تھی اور اہلخانہ نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ آسیہ نے خودکشی کی ہے۔ محلے کی ایک خاتون نے بچی کو پھندے پر لٹکا ہوا دیکھا، جس کے بعد محلہ داروں نے کپڑے کی رسی کاٹ کر لاش نیچے اتاری۔ لاش کو تحویل میں لے کر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بچی کو نامعلوم ملزم یا ملزمان نے گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ والد کی جانب سے پوسٹ مارٹم نہ کروانے پر اصرار کیا گیا، تاہم سرجانی پولیس نے اہلخانہ کو راضی کیا، جس کے بعد میڈیکل رپورٹ نے کیس کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔