ہماری دعائیں احمد آباد طیارہ حادثے میں متاثرین کے ساتھ ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ احمد آباد کے قریب بھارتی ائیر لائن کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے کے حادثے پر افسردہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں اس دل سوز حادثے سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ ہیں۔قبل ازیں سابق وزیر اعظم نواز شریف، خواجہ آصف، پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی طیارہ حادثے اور اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ بھارتی ایئرلائن ایئر انڈیا کا طیارہ احمد آباد سے لندن جارہا تھا جو اڑان بھرتے ہی حادثے کا شکار ہوا اور رہائشی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں اب تک 242 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
بھارت کے پہلے 2، اب 6 جہاز گرائے، اگلی بار 60 اور 600 بھی گرا سکتے ہیں: مصدق ملک
طیارہ حادثے میں ایک مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہا جس کی شناخت رمیش کے نام سے ہوئی اور اُسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق مسافر ہوش میں ہے اور بات چیت کررہا ہے۔وقوعہ سے برآمد ہونے والی متعدد لاشیں جھلس کر ناقابل شناخت ہوچکی ہیں جنہیں ضابطے کی کارروائی اور شناخت کیلیے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: طیارہ حادثے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔