امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو عمان میں ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافے کے بعد عمانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امریکی اہلکاروں کو مشرقِ وسطیٰ سے اس لیے نکالا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک خطرناک علاقہ بن سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے امریکی و عراقی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا بغداد میں اپنے سفارت خانے کے انخلا کی تیاری کر رہا ہے اور خطے میں موجود اپنے فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کو بھی واپسی کی اجازت دے رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور کویت سے رضاکارانہ انخلا کی اجازت دی ہے، جبکہ بدھ کی شب محکمہ خارجہ نے علاقائی کشیدگی کے باعث غیر ہنگامی امریکی سرکاری عملے کے انخلا کا حکم دیا۔
سینئر ایرانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ امریکی فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کا انخلا کسی خطرناک اقدام کی علامت نہیں بلکہ محض احتیاطی تدبیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔