data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کی دھمکی کے ایک روز بعد ہی امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے غیر سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے، یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس سے ممکنہ طور پر ایک اور بڑی محاذ آرائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عراق میں حالات خطرناک ہو سکتے ہیں، اسی لیے ہم نے لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ایک بات بالکل واضح ہے: ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکا نے بغداد میں اپنے سفارت خانے سے عملے کے جزوی انخلا کی تیاری شروع کر دی ہے جبکہ بحرین اور کویت میں موجود فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کو رضاکارانہ طور پر خطے سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ایرک کریلا نے صدر کو متعدد عسکری آپشنز پیش کیے ہیں اور اسی تناظر میں انہوں نے اپنی کانگریس میں پیشی بھی ملتوی کر دی ہے۔

خیال رہے کہ  ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصرزادہ نے گزشتہ روز واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو “خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو براہِ راست جواب دیا جائے گا، امریکا کی عسکری دھمکیاں خطے میں استحکام کے بجائے مزید انتشار پیدا کریں گی۔

ادھر اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے، تل ابیب ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

واضح رہےکہ  کویت میں امریکی سفارت خانہ بدستور مکمل فعال ہے اور اس کی اسٹافنگ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، قطر میں بھی العدید ایئربیس پر کوئی انخلا نہیں ہوا اور تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں البتہ بحرین میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کو رضاکارانہ طور پر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان