ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر گڑ گاؤں میں ایک سنگین انسانی بحران نے جنم لے لیا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں بنگالی نژاد مسلم مزدور اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان مزدوروں کے خلاف مبینہ طور پر ہریانہ پولیس کی طرف سے غیر قانونی گرفتاری، تحویل میں بدسلوکی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی ٹیم نے موقع واردات پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ تر افراد کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اور یہ لوگ دہائیوں سے تعمیرات، گھریلو کام، فیکٹریوں، صفائی، ری سائیکلنگ اور ڈرائیوری جیسے شعبوں میں کام کرکے شہر کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم حالیہ کارروائیوں میں انہیں "غیر قانونی بنگلہ دیشی پناہ گزین" قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے پاس ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ، راشن کارڈ جیسے قانونی دستاویزات موجود ہیں۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن سیاسی ایجنڈے کے تحت ایک محنت کش اقلیت کو بے دخل کرنے کی منظم کوشش ہے۔ ایک متاثرہ مزدور نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسے اور 12 دیگر افراد کو شکرپور گاؤں سے بغیر کسی وجہ یا وارنٹ کے اٹھا لیا گیا۔ انہیں مختلف پولیس چوکیوں میں گھمایا گیا اور آخرکار سیکٹر 31 کے ایک کمیونٹی ہال میں رکھا گیا، جو بظاہر ایک خفیہ حراستی مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اے پی سی آر کے مطابق متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ ہم سے فون لے لئے گئے، کسی کو گھر والوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ ہمیں بتایا تک نہیں گیا کہ ہمیں کیوں اٹھایا گیا۔ بس مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ حراست کے دوران انہیں باسی اور ناقابلِ خوردنی کھانا دیا گیا اور اگر کسی نے سوال کیا یا مدد مانگی، تو اسے مارا پیٹا گیا۔ ایک پولیس اہلکار نے یہاں تک کہہ دیا "تم لوگ روزہ نہیں رکھتے، تمہیں کھانے کی کیا فکر ہے"۔

سماجی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم، جس میں ندیم خان، لئیق احمد خان اور وکیل ایم حذیفہ شامل تھے، نے درجنوں متاثرین کی گواہی ریکارڈ کی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع اور منظم مہم ہے جو مخصوص لسانی و مذہبی گروہ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ندیم خان نے کہا کہ یہ قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ کھلی فرقہ وارانہ پروفائلنگ ہے، لوگ جو دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں، انہیں اجنبی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایڈووکیٹ حذیفہ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جنہوں نے اس شہر کی تعمیر میں حصہ لیا، آج اسی شہر میں اجنبیوں کی طرح سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے اس معاملے میں فوری عدالتی تحقیقات، لاپتہ افراد کی بازیابی، ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور وزارت داخلہ کی پالیسیوں کی شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ آف سول رائٹس ایسوسی ایشن اے پی سی آر

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل