توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل میں ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت سپیشل سینٹرل جج صبح 10 بجے کریں گے، اِس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو کمرہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ کل کی سماعت میں پراسیکیوشن کے میں مزید گواہان عدالت میں پیش کئے جائینگے۔ اسلام ٹائمز۔ توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت کل 10 بجے اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت سپیشل سینٹرل جج شاہ رخ ارجمند صبح 10 بجے کریں گے، اِس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ کل کی سماعت میں پراسیکیوشن کے میں مزید گواہان عدالت میں پیش کئے جائینگے، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلاء ارشد تبریز اور قوسَین مفتی پیش ہونگے جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے ذوالفقار نقوی اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں ہونگے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت وکلاء صفائی کی عدم موجودگی کی وجہ سے بغیر کاروائی کے ملتوی کر دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عدالت میں پیش کیس کی سماعت
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔