پاکستانی پارلیمانی وفد کی بیلجیئم کی وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
برسلز کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے اعلیٰ سطح کے پارلیمانی وفد کے اراکین کے ایک گروپ نے بیلجیئم کی وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر جنرل برائے باہمی امور برگٹ اسٹیونز سے ملاقات کی۔
پاکستانی پارلیمانی وفد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی چیئرپرسن اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور سینیٹ میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر فیصل علی سبزواری شامل تھے۔
دوران ملاقات پاکستان اور بیلجیئم کے مابین دو طرفہ تعلقات اور جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے بھارت کے جارحانہ طرز عمل اور اس کے نتیجے میں خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، پارلیمانی وفد نے باور کروایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہوتے ہوئے، عالمی اصول و ضوابط و معاہدات کی پاسداری اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔
وفد نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس آبی معاہدے کو التوا میں رکھنے، پانی کی ترسیل کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے اور ان جارحانہ اقدامات کے سنگین مضمرات پر بھی تفصیلا روشنی ڈالی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی بلا اشتعال جارحیت ایسے نئے رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے جو قوانین کی پاسداری پر مبنی، بین الاقوامی نظام کی بقا کیلئے شدید نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔ وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاہدوں کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔
وفد نے پاکستان اور بیلجیئم کے مابین کثیرالجہتی دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی جن میں تجارت، مہارت کی نقل و حرکت اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور بیلجیئم کے مابین تعاون کا فروغ شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پارلیمانی وفد وفد نے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔