ایران پر اسرائیلی حملہ پورے عالم اسلام کے وقار، وحدت اور سلامتی پر حملہ ہے، علامہ احمد اقبال رضوی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین نے کہا کہ عالمی دہشت گرد اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ مشرق وسطیٰ کو بدامنی، تباہی اور جنگ کی آگ میں جھونکنے کے درپے ہیں، یہ ناپاک سازش صرف ایران نہیں، بلکہ ہر آزاد اور غیرت مند مسلم ملک کے خلاف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران پر ہونے والی کھلی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، یہ حملہ صرف ایران کی خودمختاری پر نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے وقار، وحدت اور سلامتی پر حملہ ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی دہشت گرد اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ مشرق وسطیٰ کو بدامنی، تباہی اور جنگ کی آگ میں جھونکنے کے درپے ہیں، یہ ناپاک سازش صرف ایران نہیں، بلکہ ہر آزاد اور غیرت مند مسلم ملک کے خلاف ہے، ان شاءاللہ امتِ مسلمہ اب خاموش نہیں رہے گی۔ علامہ سید احمد اقبال رضوی نے مزید کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور مسلم دنیا اسرائیل کی اس بزدلانہ جارحیت کا نوٹس لے اور فوری کارروائی کرے، اللہ کے دشمنوں سے دشمنی ایمان کا تقاضا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔