ایران پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، افغانستان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے، جن میں ایرانی فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا، افغانستان میں سخت ردِعمل کا باعث بنے ہیں۔ ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے افغانستان کی عبوری حکومت اور سابق اعلیٰ سیاسی شخصیات نے شدید مذمت کی ہے۔
عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کارروائی کو ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل کا تبریز پر ایک اور حملہ ، ایران میں ملک گیر ہائی الرٹ جاری، عالمی برادری کا اظہار تشویش
سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ’ناقابلِ معافی جارحیت‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا
’ اسرائیل کے یہ حملے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیتے ہیں۔‘
سابق حکومت کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بھی اس اقدام کو ’غیر قانونی‘ اور ’دشمنانہ‘ قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر اس کی مذمت کی اور ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
افغانستان کا مؤقفعبوری حکومت افغانستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر پرامن تعلقات کی حامی ہے۔ ایران پر اسرائیل کے یہ حملے خطے میں عدم استحکام کا باعث قرار دیے گئے ہیں، اور افغانستان نے بین الاقوامی اصولوں کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے تہران پر اسرائیلی حملوں میں 78 افراد کے شہید، 329 زخمی ہوئے، ایرانی میڈیا
افغانستان پر ممکنہ اثراتایران اور اسرائیل کے درمیان اس کشیدگی کے افغانستان پر براہِ راست اور بالواسطہ اثرات پڑ سکتے ہیں:
ایران و افغانستان کے مابین پانی کے تنازع، اقتصادی روابط اور پناہ گزینوں کے مسئلے جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران ممکنہ طور پر افغانستان کے خلاف دباؤ بڑھانے کی پالیسی اپنا سکتا ہے۔ خطے میں عدمِ استحکام دہشتگردی اور مسلح گروپوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جو افغانستان کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سیکیورٹی چیلنجز اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ چابهار بندرگاہ کے ذریعے افغان تجارت، جو کہ افغانستان کے لیے انتہائی اہم ہے، اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق، خطے کی یہ صورتِ حال افغانستان کے لیے توازن پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے، تاکہ ملک عالمی اور علاقائی کشمکش سے محفوظ رہ سکے۔ امن اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کا حل ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل کا ایران پر حملہ ایران ذبیح اللہ مجاہد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل کا ایران پر حملہ ایران ذبیح اللہ مجاہد افغانستان کے بین الاقوامی اسرائیل کے پر اسرائیل خلاف ورزی ایران پر کے لیے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن