پاکستان کی فضائی حدود موثر طور پر فعال ہے، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عراق، اردن اور شام کی جانب سے اپنی فضائی حدود کو بند کرنے کے احکامات سامنے آئے ہیں. تاہم پاکستان کے فضائی راستے مکمل طور پر فعال ہیں اور موجودہ صورتحال کے باعث پاکستان کی حدود میں آنے والے اضافی ایئر ٹریفک کو بھی منظم انداز میں کنٹرول کیا جا رہا ہے۔خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود مؤثر طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اضافی فضائی ٹریفک کو معمول کے مطابق پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا جا رہا ہے۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں.
خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں میں سربراہ پاسدارانِ انقلاب، ایرانی آرمی چیف اور 6 جوہری سائنسدانوں کے علاوہ 5 شہری شہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔