خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود مؤثر اور فعال انداز میں استعمال ہو رہی ہے، اور بین الاقوامی فضائی ٹریفک کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔

ترجمان پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اضافی فضائی ٹریفک کو بھی پیشہ ورانہ اور مربوط انداز میں سنبھالا جا رہا ہے اور تمام داخلی و خارجی فضائی راستے کھلے اور محفوظ ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہیں۔

مزید پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو خبردار کردیا، حملے کے بعد پہلے بیان میں کیا کہا؟

بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک کی فضائی حدود کا نظم و نسق موثر ائیر اسپیس مینیجمنٹ کے تحت جاری ہے، اور خطے میں ممکنہ اضافی فضائی نقل و حرکت سے بخوبی نمٹا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند یا محدود کر دی ہیں۔ تاہم پاکستان نے اب تک فضائی راستوں کو کھلا رکھا ہے، جس سے عالمی ائیرلائنز کو متبادل روٹس میسر آ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایران پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی پاکستان کی فضائی حدود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی پاکستان کی فضائی حدود پاکستان کی فضائی حدود

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی