خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود فعال، ائیر ٹریفک معمول کے مطابق جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود مؤثر اور فعال انداز میں استعمال ہو رہی ہے، اور بین الاقوامی فضائی ٹریفک کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔
ترجمان پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اضافی فضائی ٹریفک کو بھی پیشہ ورانہ اور مربوط انداز میں سنبھالا جا رہا ہے اور تمام داخلی و خارجی فضائی راستے کھلے اور محفوظ ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو خبردار کردیا، حملے کے بعد پہلے بیان میں کیا کہا؟
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک کی فضائی حدود کا نظم و نسق موثر ائیر اسپیس مینیجمنٹ کے تحت جاری ہے، اور خطے میں ممکنہ اضافی فضائی نقل و حرکت سے بخوبی نمٹا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند یا محدود کر دی ہیں۔ تاہم پاکستان نے اب تک فضائی راستوں کو کھلا رکھا ہے، جس سے عالمی ائیرلائنز کو متبادل روٹس میسر آ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی پاکستان کی فضائی حدود.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی پاکستان کی فضائی حدود پاکستان کی فضائی حدود
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک