اسرائیل نے ہنگامی اقدامات: فضائی حدود بند، بین الاقوامی پروازیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسرائیل نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہے اور متعدد پروازیں مختلف مقامات پر موڑ دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:100 بیلسٹک ڈرونز اور بیلسٹک میزائل کیساتھ ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ
اس اقدام کا تعلق اسرائیلی فضائیہ کے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں سے ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے کچھ اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے جواب میں اسرائیل نے اپنے ہوائی حدود کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ہوائی اڈوں کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی پروازیں اسرائیل سے ہٹ کر قبرص، اردن اور دیگر قریبی ممالک کی طرف موڑ دی گئی ہیں۔ اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے والی تمام پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی حملے غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہیں، جوہری مذاکرات کے ثالث عمان کا ردعمل
اس سے قبل ایران نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی اور کئی شہروں میں میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ علاقائی تناؤ میں اضافے کے پیش نظر دونوں ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیلی حملہ ایران فضائی حدود.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی حملہ ایران
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان