data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بحیرہ کیریبین کی تاریک گہرائیوں میں صدیوں سے پوشیدہ ایک ایسا راز، جو تاریخ، خزانے اور عالمی سیاست کے حیران کن امتزاج کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، حالیہ دنوں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ اور سمندری تحقیق سے وابستہ سائنسدانوں نے ایک300 سال پرانے ہسپانوی جنگی جہاز ’سان جوز‘ کے ملبے کی جدید ترین تکنیک سے از سر نو عکس بندی کی ہے، جس نے اس قدیم خزانے سے متعلق کئی دلچسپ اور ناقابل یقین حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سان جوز، جسے کئی ماہرین تاریخ کا سب سے قیمتی ملبہ قرار دیتے ہیں، 1708 میں پیرو سے اسپین جاتے ہوئے برطانوی نیوی کے حملے کا شکار ہوا تھا۔ اس جہاز پر سونا، چاندی اور قیمتی زمرد لدے ہوئے تھے جن کی آج کی قدر تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔ مگر قسمت نے کروٹ بدلی اور یہ خزانہ بحر کی گہرائیوں میں دفن ہو کر رہ گیا، جسے 3صدیوں سے کبھی کسی نے دیکھا تک نہیں تھا ، یہاں تک کہ 2015 میں کولمبین نیوی نے بحیرہ کیریبین کے پانیوں میں اس ملبے کی موجودگی کا انکشاف کیا۔

اُس وقت تک یہ طے نہیں ہو سکا تھا کہ آیا دریافت شدہ ملبہ واقعی سان جوز ہی ہے یا کوئی اور جہاز، مگر اب زیرِ آب تحقیق کی جدید ترین ٹیکنالوجی، جس میں تھری ڈی ہائی ریزولوشن تصویری عکس بندی اور ڈیجیٹل ماڈلنگ شامل ہے، نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

ماہرین نے سطح سمندر سے 600 میٹر نیچے واقع اس ملبے کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور بکھرے ہوئے سکّوں کی ایسی تصاویر حاصل کیں جن پر 1707 کی کندہ شدہ تاریخ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Antiquity میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق یہ سکّے جنوبی امریکا کے ملک پیرو سے تعلق رکھتے ہیں۔وہی ملک جہاں سے سان جوز نے خزانے کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس دریافت نے نہ صرف یہ ثابت کرنے میں مدد دی کہ ملبہ دراصل سان جوز کا ہی ہے بلکہ اس نے 3دہائیوں سے جاری اس تنازع کو بھی ہوا دے دی ہے کہ آخر اس خزانے کا اصل حق دار کون ہے۔

یہ سوال صرف ایک سادہ تاریخی بحث نہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی قانونی تنازع ہے۔ کولمبیا، جہاں یہ ملبہ دریافت ہوا، اس پر اپنے مکمل حق کا دعویٰ کرتا ہے۔ کولمبین حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ یہ خزانہ ان کی ساحلی حدود میں پایا گیا ہے، اس لیے یہ مکمل طور پر ان کا قومی ورثہ ہے۔ دوسری طرف اسپین، جس کی بادشاہی کے لیے یہ خزانہ لایا جا رہا تھا، تاریخی دعویٰ رکھتا ہے کہ یہ مال دراصل ان کی ریاست کی ملکیت تھا۔

امریکا کی ایک پرائیویٹ کمپنی بھی اس خزانے پر حق جتاتی رہی ہے، جو 1980 کی دہائی میں اس ملبے کی تلاش میں شامل تھی۔ علاوہ ازیں جنوبی امریکا کے بعض مقامی قبائل اور مقامی باشندوں کے نمائندہ گروہ بھی اس خزانے کو اپنے آبا و اجداد کی محنت کا ثمر قرار دیتے ہوئے اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ یوں یہ خزانہ نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے، بلکہ ایک سیاسی اور قانونی معرکے کا مرکز بھی بن چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خزانے میں سونے کے سکے، چاندی کی اینٹیں، قیمتی پتھر جیسے زمرد اور دیگر قیمتی اشیا شامل تھیں، جنہیں بادشاہ فلپ پنجم کے لیے پیرو سے اسپین لایا جا رہا تھا تاکہ اسپین کی بگڑتی معیشت کو سہارا دیا جا سکے،لیکن برطانیہ اور اسپین کے درمیان جاری ’وار آف سپینش سکسیشن‘ کے دوران برطانوی نیوی نے اس قیمتی جہاز کو تباہ کر دیا۔

اب جب کہ سان جوز کے ملبے کی شناخت مضبوط شواہد کے ساتھ سامنے آ چکی ہے، تو ایک بار پھر دنیا کی نظریں اس پر لگی ہیں کہ یہ خزانہ کب، کیسے، اور کس کے حوالے کیا جائے گا۔ کولمبیا کی موجودہ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ملبے کو قومی عجائب گھر میں محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرے گی تاکہ دنیا اس حیران کن تاریخی خزانے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ خزانہ ملبے کی

پڑھیں:

پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔

امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔

سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔

یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔

آج کے نمایاں کرنسی ریٹس

امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد