وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ تنقید اپوزیشن کا حق ہے ہونا چاہیے، صوبے اور عوام کے حق میں اپوزیشن  کی مثبت تجاویز کو خوش آمدید کہیں گے، اپوزیشن اپنی تجاویز پیش کرے، ہم ان پر غور کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے فاٹا اور پاٹا پر وفاقی حکومت کا ٹیکس ماننے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس وصولی کے حوالے سے صوبائی حکومت کوئی معاونت نہیں کرے گی۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ تنقید اپوزیشن کا حق ہے ہونا چاہیے، صوبے اور عوام کے حق میں اپوزیشن  کی مثبت تجاویز کو خوش آمدید کہیں گے، اپوزیشن اپنی تجاویز پیش کرے، ہم ان پر غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گورنر کو آئینی طور پر اسمبلی اجلاس بلانا چاہیے تھا، گورنر نے اجلاس کی سمری نہیں بھیجی، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف سازش 9 مئی سے شروع ہوئی ہے جو تاحال جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ہمارے خلاف سازشوں کے بجائے عوام کی خدمت کرے، میں کبھی اپوزیشن میں نہیں بیٹھا ہوں، اپوزیشن میں بہت ساروں کو عوام نے اسمبلی میں بٹھایا ہے۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بجٹ دھوکا اور صرف الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے، ہم فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس نہیں مانیں گے بلکہ اس کی راہ میں رکاوٹ بھی بنیں گے، ایسے کسی ٹیکس کی وصولی میں ہماری حکومت معاونت نہیں کرے گی، اس میں ہم رکاوٹیں ڈالیں گے۔ بانی پی ٹی آئی سے بجٹ پر مشاورت کرنا لازمی ہے، ابھی تک بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں کرائی گئی، اگر ہمیں ملاقات کے لیے نہیں چھوڑا گیا تو تمام ذمہ داری وفاق پر ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت کہا کہ

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ