اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے، اختتام ہم لکھیں گے، ایرانی سپریم لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے، مفلوج کرکے دم لیں گے۔
سپریم لیڈر نے ایک سخت اور واضح پیغام میں کہا کہ جوابی حملے میں ایران کی مسلح افواج نے کوئی کوتاہی نہیں برتی، اور یہ کہ اسرائیل کا جرم ناقابل معافی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت تک نہیں رکیں گی جب تک مجرموں کو سزا نہ دے دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی دشمن پر کاری ضرب لگائی جائے گی اور طاقت کی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اسرائیل سے بات ممکن نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کی شروعات اسرائیل نے کی تھی لیکن اس کا اختتام ایران لکھے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے اپنی دفاعی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور آئندہ بھی بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم لیڈر
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔