ایران پر خطرناک فوجی حملے فوراً بند کیے جائیں، چین کا اسرائیل سے مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
چین نے اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے فوراً اپنے خطرناک فوجی اقدامات بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے، فُو کانگ نے جمعے کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ چین کشیدگی کو بڑھانے اور تنازعات کو وسعت دینے کے خلاف ہے اور اسرائیل کے اقدامات کے ممکنہ نتائج پر گہری تشویش رکھتا ہے۔
https://Twitter.
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر جاری سفارتی مذاکرات پر موجودہ صورتحال کے منفی اثرات پر بھی سنجیدہ تشویش ظاہر کی۔
واضح رہے کہ جمعے کو اسرائیل نے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے شروع کیے، جنہیں اسرائیل کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے طویل آپریشن کا آغاز قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ
جواباً ایران نے جمعے کی شب جوابی فضائی حملے کیے، جن کی آوازیں یروشلم اور تل ابیب جیسے اسرائیل کے بڑے شہروں میں سنی گئیں۔
چین نے اپنے شہریوں کو اسرائیل اور ایران میں پیچیدہ اور سنگین سیکیورٹی صورتِ حال سے خبردار کرتے ہوئے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں، چین نے اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کو ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے تیار رہنے کی بھی تنبیہ کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ ایران چین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ ایران چین کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔