عدالت نے ایف آئی اے کوفرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔جسٹس انعام امین منہاس نے دو صفحات کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے فرحت اللہ بابر کو ہراساں نا کرے اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے۔ عدالت نے ایف آئی اے و دیگر کو جون کے آخری ہفتے تک نوٹس جاری کردیے، ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔درخواست گزار کے مطابق ان کے خلاف ایف آئی اے میں انکوائری زیر التوا ہے، درخواست میں استدعا ہے کہ ایف آئی اے کو الزامات کی تفصیل سمیت تمام تفصیلات فراہمی کا حکم دیا جائے، درخواست گزار کو شکایت کی کاپی بھی فراہم نہیں کی جارہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔