ایران کا ایک مرتبہ پھر اسرائیل پر بیلسٹک میزائل سے حملہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران نے ہفتے کی شب ایک مرتبہ پھر اسرائیل کے خلاف میزائل حملوں کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کردیا ہے جو آپریشن وعدہ صادق 3 کے ابتدائی مرحلے کے تسلسل میں کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تازہ ترین حملے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریباً 11 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئے اور اس بار ان حملوں کا مرکزی ہدف مقبوضہ بندرگاہی شہر حیفا تھا، جو صیہونی ریاست کی کئی اہم فوجی اور صنعتی تنصیبات کا مرکز ہے۔ حملے کے ساتھ ہی پورے علاقے میں سائرن بجنا شروع ہوگئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قابض ریاست کی جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہے، جس کا مقصد صیہونی قیادت کو واضح پیغام دینا ہے کہ جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تہران میں مختلف عسکری اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق حیفا پر ایرانی حملے کی توقع پہلے ہی سے کی جارہی تھی کیونکہ یہ علاقہ صیہونی ریاست کے قدرتی گیس کے بڑے ذخائر اور تنصیبات کا مرکز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے غالباً اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران کے بوشہر کے قریب گیس فیلڈ اور آبادان کی آئل ریفائنری پر کیے گئے حملوں کا جواب ہیں۔
تہران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ صرف ابتدائی ردعمل ہے اور ایرانی حکام نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ جوابی کارروائی مزید شدت اختیار کرے گی اور آئندہ مرحلوں میں حیفا کے ساتھ ساتھ تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کی جانب بھی حملوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔