’پہلی بار اتنی تباہی دیکھی‘ ایرانی حملوں نے اسرائیلیوں کو ہلا کر رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
تہران(نیوز ڈیسک)ایران کی جانب سے اسرائیل پر 13 اور 14 جون کی درمیانی شب داغے گئے میزائل حملوں نے اسرائیلیوں کو ہلاکر رکھ دیا اور انہوں نے حملوں کو تاریخ کے بدترین حملے قرار دے دیا۔
’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد تل ابیب کے متعدد علاقوں میں خوف و حراس کا ماحول ہے، لوگ رات دیر گئے ہونے والے ایرانی حملوں کے خوف سے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود نہیں نکل پائے۔
رپورٹ کے مطابق 13 اور 14 جون کی درمیانی شب ہونے والے ایرانی تل ابیب، رامت گان اور ریشون لیسیون کے رہائشی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا، جن میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے۔
ایران نے مذکورہ حملے اسرائیل کی جانب سے اس کی جوہری تنصیبات اور فوجی قیادت پر فضائی حملوں کے جواب میں کیے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ایران کے متعدد میزائل دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنا دیے گئے، تاہم کچھ میزائل انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ رہائشی عمارات سے ٹکرا گئے، جن سے نقصان ہوا۔
حملوں کے بعد تل ابیب کی رہائشی ایک خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے خوف کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ معمول کے مطابق کمپیوٹر اور ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ اچانک علاقہ دھماکوں سے گونج اٹھا اور پھر ان کے گھر میں بھی دھنواں جمع ہونے لگا، جس باعث وہ وہاں سے نکل گئے۔
ایرانی دھماکوں کے بعد ریسکیو سرگرمیوں کی سربراہ کرنے والے تل ابیب کے ’ہوم فرنٹ کمانڈ‘ فورس کے سربراہ کے مطابق انہوں نے پہلے کبھی اسرائیل کی تاریخ میں اس قدر شدید تباہی اور حملے نہیں دیکھے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ پہلی بار تل ابیب سمیت اسرائیل کے دیگر علاقوں میں حملوں سے شدید نقصان پہنچا اور عوام تاحال شدید خوف اور اضطراب میں مبتلا ہے۔
ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والے علاقے آوی گاتینیو کے ایک مقامی رہائشی شخص کے مطابق وہ بھی بچوں کے ہمراہ گھر میں پرسکون حالت میں موجود تھے کہ سائرن بجنے کے بعد وہ گھر کے تہ خانے میں چلے گئے، اسی دوران زوردار دھماکہ ہوا اور پورا محلہ پانچ منٹ میں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔
ہوم فرنٹ کمانڈ کے کرنل (ریٹائرڈ) مائیکل ڈیوڈ کے مطابق ایرانی حملوں کا واقعہ ایک غیر معمولی نوعیت کا واقعہ ہے، جس کے لیے ہمیں اضافی نفری تعینات کرنا پڑی اور عمارتوں کے ملبے کی تلاشی کا کام جاری ہے۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل کی مدد کی تو امریکا، برطانیہ اور فرانس کے اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران کی دھمکی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایرانی حملوں کے مطابق حملوں کے تل ابیب کے بعد
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔