پہلی مرتبہ پاکستانی کے بانڈز کی لین دین اضافی قیمت پر ہورہی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کراچی:
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے انٹرنیشنل مارکیٹ میں جاری کردہ بانڈز کی لین دین اضافی قیمت (پریمیم) پر کی جا رہی ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتبار بہتر ہونے کی دلیل ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ 2023 میں پاکستان کا انٹرنیشنل بانڈ اپنی اصل قیمت سے کم (37 سے 38 سینٹس) کم پر ٹریڈ ہوتا تھا لیکن آج پاکستان کے تین بانڈز انٹرنیشنل مارکیٹ میں پریمیم پر ٹریڈ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غیرملکی قرضوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اورساتھ ہی پاکستان نے اپنے قرضوں کا پورٹ فولیو زیادہ سودی قرضوں سے تبدیل کرکے ملٹی لیٹرل کم سودی قرضوں میں منتقل کیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے 50 فیصد کے لگ بھگ قرضے ایسے ہیں جن پر سود کم ہے، دوسری جانب پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مؤثر انداز میں مستحکم کرتے ہوئے تمام ادائیگیاں بروقت کیں، جس سے پاکستان کے قرضوں کی کوالٹی بہتر ہونے کے ساتھ قرضوں کی واپسی کی صلاحیت بھی بہتر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے دو کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر اور آؤٹ لک مستحکم کیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے لیے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بانڈز فلوٹ کرنے کا یہ بہتر وقت ہے تاہم فیصلہ حکومت کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان کے مارکیٹ میں
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔