کراچی:

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے انٹرنیشنل مارکیٹ میں جاری کردہ بانڈز کی لین دین اضافی قیمت (پریمیم) پر کی جا رہی ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتبار بہتر ہونے کی دلیل ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ 2023 میں پاکستان کا انٹرنیشنل بانڈ اپنی اصل قیمت سے کم (37 سے 38 سینٹس) کم پر ٹریڈ ہوتا تھا لیکن آج پاکستان کے تین بانڈز انٹرنیشنل مارکیٹ میں پریمیم پر ٹریڈ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غیرملکی قرضوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اورساتھ ہی پاکستان نے اپنے قرضوں کا پورٹ فولیو زیادہ سودی قرضوں سے تبدیل کرکے ملٹی لیٹرل کم سودی قرضوں میں منتقل کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے 50 فیصد کے لگ بھگ قرضے ایسے ہیں جن پر سود کم ہے، دوسری جانب پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مؤثر انداز میں مستحکم کرتے ہوئے تمام ادائیگیاں بروقت کیں، جس سے پاکستان کے قرضوں کی کوالٹی بہتر ہونے کے ساتھ قرضوں کی واپسی کی صلاحیت بھی بہتر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے دو کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر اور آؤٹ لک مستحکم کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے لیے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بانڈز فلوٹ کرنے کا یہ بہتر وقت ہے تاہم فیصلہ حکومت کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان کے مارکیٹ میں

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • اسٹاک ایکسچینج پر فروخت کا دباؤ برقرار، منفی زون میں ٹریڈنگ جاری
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال