اسرائیل نے اپنی ایئرفورس کو ایران پر حملے کی مکمل آزادی دے دی ہے، ایران کی جانب سے گزشتہ رات سے اب تک تقریباً 200 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغے جانے کے بعد اسرائیلی حکومت نے کارروائی کے لیے فری ہینڈ دے دیا، تازہ اسرائیلی حملے میں مزید دو جنرلز، 3 جوہری سائنسدانوں، 20 بچوں سمیت 65 ایرانی شہری شہید ہوگئے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی اصفہان نیوکلیئر سائٹ پر حملہ کر کے اہم تنصیبات اور لیبارٹریز کو تباہ کر دیا ہے، مزید دو ایرانی جنرل کو بھی مار دیا گیا ہے۔

آئی ڈی ایف کے مطابق اصفہان میں سرگرمیاں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ ایران ہتھیاروں کے لیے یورینیم افزودہ کر رہا تھا، تہران کے راستے کو ’صاف‘ کر لیا ہے اور اب اسرائیلی فضائیہ تہران کی فضاؤں میں آزادانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی جوہری سائنسدانوں، فوجی حکام، اور میزائل لانچنگ سسٹمز کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، اور کارروائیاں جاری رکھے گا۔

حملے جاری رہے تو تہران راکھ ہوجائے گا، کاٹز
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے سپریم لیڈر کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل پر میزائل حملے جاری رہے تو تہران جل کر راکھ ہو جائے گا۔
انہوں نے آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر، موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ برنیع اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایرانی آمر ایران کے شہریوں کو یرغمال بنا رہا ہے، اور ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر رہا ہے جس میں خاص طور پر تہران کے رہائشیوں کو اسرائیلی شہریوں پر مجرمانہ حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

کَاٹز نے خبردار کیا کہ اگر خامنہ ای نے اسرائیلی شہری علاقوں پر میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھا تو تہران جل جائے گا۔

تہران تک جانے والا راستہ صاف ہو چکا، اسرائیلی فوج
آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر اور اسرائیلی ایئر فورس کے سربراہ میجر جنرل تومر بار نے ایک جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’تہران تک جانے والا راستہ ہموار ہو چکا ہے‘۔

اسرائیلی فوج کے حکام نے مزید کہا کہ منصوبے کے مطابق، ایئر فورس کے لڑاکا طیارے تہران میں اہداف پر حملے شروع کریں گے۔

یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب فوج نے کہا کہ گزشتہ رات اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے تہران میں فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، جس سے ایرانی دارالحکومت کے اوپر فضائی کارروائی کی آزادی میں اضافہ ہوا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر 2 میزائل گرے، جب کہ ایرانی میڈیا نے وہاں آگ لگنے کی اطلاعات دی ہیں، یہ ہوائی اڈہ ایرانی قیادت کے اہم مقامات کے قریب واقع ہے، اور یہاں ایک ایئر فورس بیس بھی موجود ہے، جہاں لڑاکا طیارے اور ٹرانسپورٹ طیارے تعینات ہیں۔

ایران کی فضائی حدود بند
ایران نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود مزید احکام تک بند کر دی گئی ہیں، ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں سمیت جو ممالک اسرائیل کا دفاع کریں گے، اُنہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد ڈرونز کو فضائیہ اور بحریہ نے تباہ کر دیا۔

اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے درجنوں بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کرنے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔
غزہ سے دو راکٹ داغے گئے، جو کھلے میدان میں گرے اور کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ صورتحال خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں متوقع ہیں۔
ایرانی کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران پر تازہ ترین اسرائیلی حملوں کے نتیجے 60 شہری شہید ہوئے ہیں، شہید ہونے والوں میں 20 بچے بھی شامل ہیں۔

قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے والا اسرائیل جواب ملنے پر بوکھلاگیا ہے، صہیونی افواج نے دوسرے روز بھی ایران کے مختلف شہروں پر بمباری کی ہے، مہر آباد ایئرپورٹ اور زنجان میں فوج چھاؤنی سمیت کئی مقامات پر آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی۔

مزید 2 ایرانی جنرلز کی شہادت کی تصدیق
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے 2 سینئر جنرل شہید ہو گئے ہیں، جب کہ اسرائیل نے ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شہید ہونے والوں میں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ جنرل غلام رضا محرابی، اور آپریشنز کے نائب سربراہ جنرل مہدی ربانی شامل ہیں۔
ایران کے مزید 3 جوہری سائنسدان شہید
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے تسنیم نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ مزید 3 ایرانی ایٹمی سائنسدان اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔
تسنیم کے مطابق ہلاک ہونے والے سائنسدانوں کی شناخت علی بقائی کریمی، منصور عسگری، اور سعید برجِی کے طور پر ہوئی ہے۔
فردو، اصفہان میں جوہری تنصیبات کو معمولی نقصان ہوا، ایران
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے میں فردو اور اصفہان میں واقع ایران کی جوہری تنصیبات کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

بہروز کمالوندی کے مطابق حملوں کی پیشگی اطلاع کے بعد دونوں تنصیبات سے اہم سازوسامان کو منتقل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اصفہان کی تنصیب میں ایک شیڈ میں آگ لگی، لیکن فردو کے مقام پر ہونے والے نقصان کی وضاحت نہیں کی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ کوئی تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

شمالی ایران کے شہر قم کے قریب پہاڑوں کے اندر واقع فردو فیول ان رچمنٹ پلانٹ جدید سینٹری فیوجز پر مشتمل ہے، جہاں یورینیم کو اعلیٰ سطح کی خالصیت تک افزودہ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج اور فضائیہ نے ایران میں اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں اب بھی دھماکوں اور فضائی دفاعی سرگرمیوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق ویڈیوز اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وردآورد کے علاقے میں ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

جنوبی ایران کے علاقے عبدانان سمیت بعض دیگر مقامات پر بھی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی تہران کے علاقوں حکیمیہ اور تہران‌ پارس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی خبررساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق حکیمیہ میں امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

سرکاری ذرائع نے مہرآباد کے علاقے میں ایک بڑے دھماکے کی تصدیق کی ہے، جہاں ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

جاری کردہ ویڈیوز میں علاقے میں آگ اور دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاہم کچھ ذرائع نے مہرآباد کے قریب واقع آزادی ٹاور کو نقصان پہنچنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اصفہان میں پاور اسٹیشن کے قریب دھماکے کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کہ اسرائیل ا ئی ڈی ایف حملے جاری کیا ہے کہ ایران کی ایران کے کو نشانہ نے ایران تہران کے شہید ہو کے قریب کے بعد گیا ہے کہا کہ

پڑھیں:

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام