Daily Ausaf:
2026-07-24@08:41:28 GMT

پاکستان اور افغانستان کا فطری اتحاد

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

علاقائی پیچیدگیوں اور سیاسی تغیرات کے باوجود، پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کے لئے تعاون کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان کو نہ صرف ایک ہمسایہ ذمہ داری بلکہ علاقائی امن کے لیے ایک تزویراتی ضرورت سمجھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا رشتہ صدیوں پرانا ہے، جو مشترکہ تاریخ اور جغرافیہ میں جڑا ہوا ہے۔ یہ قدرتی وابستگیاں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو فروغ دیتی ہیں۔ قدیم ادوار میں افغانستان وسطی ایشیائی ریاستوں سے برصغیر تک تجارت کے لیے قدرتی گیٹ وے کے طور پر کام کرتا رہا۔ ان تجارتی راستوں نے ثقافتی، مذہبی اور تجارتی تبادلوں کو ممکن بنایا، جس سے دونوں خطوں کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم ہوا۔ پاکستان آج بھی ان تاریخی تجارتی روابط کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان اور افغانستان معیشت، سلامتی اور سماجی روابط کے اعتبار سے تاریخی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ ایک ملک میں امن دوسرے کی سلامتی پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے، جس سے دونوں کی تقدیریں جڑی ہوئی ہیں۔ ایک مستحکم افغانستان سرحد پار جرائم، دہشت گردی اور مہاجرین کی آمد میں کمی کو یقینی بناتا ہے، جس سے پاکستان کی سیکورٹی کو فائدہ ہوتا ہے۔ اسی لئے پاکستان افغان قیادت پر مبنی امن عمل کا پرزور حامی رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں امن تجارت، علاقائی ربط اور سرحد پار تعاون کو فروغ دیتا ہے، جو افغانستان کے لیے فائدہ مند ہے۔ پاکستان کے تعمیراتی منصوبے اور تجارتی مواقع افغانستان کی علاقائی بحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی علاقائی پالیسی کا بنیادی مقصد ایک پرامن، محفوظ اور اقتصادی طور پر مستحکم افغانستان ہے۔ عالمی مفادات کی عارضی نوعیت کے برخلاف، پاکستان کی حکمت عملی دیرپا اور علاقائی امن پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2,600کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اس سرحد کے دونوں جانب ایک ہی مذہب (اسلام)اور ایک جیسے نسلی پس منظر کے لوگ آباد ہیں جیسے پشتون، تاجک، اور ہزارہ۔ ان قبائلی، نسلی اور خاندانی رشتوں نے ایک انوکھا انسانی ربط پیدا کیا ہے، جو پاکستان اور افغانستان کو صرف ہمسائے نہیں بلکہ باہم جڑی ہوئی معاشرتیں بناتا ہے۔ یہ سماجی ہم آہنگی مشکل وقت میں عوامی سفارت کاری کی بنیاد بن جاتی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ ہر افغان حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے، چاہے کابل میں کون برسرِاقتدار ہو۔ پاکستان کی پالیسی کبھی بھی افغانستان مخالف نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ باہمی فائدے کی کوشش کی ہے۔ ہر حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان نے خیرسگالی اور احترام پر مبنی رویہ اپنایا ہے۔ بدقسمتی سے کئی افغان حکومتیں بھارت کے اثر میں رہی ہیں، جس نے پاکستان کے خلاف بداعتمادی کو ہوا دی۔ اس بھارتی اثر و رسوخ نے پاک،افغان تعلقات کی مکمل صلاحیت کو حاصل نہیں ہونے دیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ گفت و شنید کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے افغانستان کا امن، استحکام اور ترقی۔ پاکستان کی افغان پالیسی قومی مفاد اور علاقائی استحکام پر مبنی ہے۔ پاکستان کی بے مثال فراخدلی کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ اس نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک 40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی اور طویل ترین مہاجر میزبانی میں سے ایک ہے۔
15اگست 2021ء کے بعد جب دنیا کی اکثر ریاستیں نیٹو کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کو قبول کرنے میں ناکام رہیں، پاکستان نے ایک بار پھر انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی اور مزید 10لاکھ قانونی/غیر قانونی مہاجرین کو پناہ دی۔ مغربی طاقتوں کے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہو سکے، لیکن پاکستان نے عالمی ذمہ داری کو وقار اور ہمدردی کے ساتھ نبھایا۔ 12 صوبوں کے لئے45 ایمبولینسز فراہم کی گئیں۔ طبی کیمپس کے ذریعے 30,000 سے زائد مفت آنکھوں کی سرجریاں کی گئیں۔ پاکستان کی طبی خدمات نے ہزاروں افغانوں کی جانیں بچائیں۔۔ چمن،سپین بولدک اور پشاور،جلال آباد ریلوے منصوبوں کے لئے پاکستان کی طرف سے فزیبلٹی مکمل کی جا چکی ہے۔۔ ان منصوبوں کا مقصد تجارت اور نقل و حرکت کو بہتر بنا کر افغانستان کو خطے کی معیشت میں شامل کرنا ہے۔ پاک-افغان تعاون فورم کے تحت کل انسانی امداد کا تخمینہ 30 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ قدرتی آفات میں 15,000 ٹن امداد فراہم کی گئی۔
پاکستان نے ہر حال میں امداد جاری رکھی، جب دنیا کی توجہ ہٹ گئی تو بھی پاکستان نے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ قندھار کے لیے ٹی وی ٹرانسمیٹر، سیکیورٹی آلات اور کمپیوٹرز، کابل کے دیہات میں 15 دیپ ویل ہینڈ پمپ ، کابل چڑیا گھر اور دہ مزنگ پارک کی بحالی قابل ذکر ہیں۔ یہ خدمات عام شہری زندگی میں بہتری، ثقافتی ورثے کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں معاون ہیں۔ پاکستان کی دہائیوں پر محیط خدمات نے اسے افغانستان کا واحد قابلِ بھروسہ اور مستقل ساتھی بنایا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے مستحکم مستقبل کی خاطر ہمیشہ دست تعاون دراز کیا ہے۔ یہ رشتہ لین دین پر مبنی نہیں بلکہ برادرانہ، آزمودہ اور مشترکہ مفادات سے منسلک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا پاکستان کی کے لیے

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر